22مرتبہ ہائیکورٹ گئے لیکن بائیسویں مرتبہ بھی تسلی بخش آرڈر نہیں کیا گیا : بیرسٹر گوہر

Mar 17, 2026 | 20:23:PM
22مرتبہ ہائیکورٹ گئے لیکن بائیسویں مرتبہ بھی تسلی بخش آرڈر نہیں کیا گیا : بیرسٹر گوہر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے ہم 22مرتبہ ہائیکورٹ گئے لیکن بائیسویں مرتبہ بھی تسلی بخش آرڈر نہیں کیا گیااگر اسی طرح انصاف کے دروازے بند کرتے ہیں تو عوام کیا کرے ۔ 

 ماربل فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے  بیرسٹر گوہر کاکہنا تھا تالیاں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہیں،ہم نے ہمیشہ سے کہا کہ مذاکرات ہوں،سیاسی مسائل کا حل ڈھونڈا جائے گالیکن کسی طرف سے تو کوئی گڈ ول جیسچر ہو،جب فیملی نے اتنی بڑی سٹیٹمنٹ دے دی کہ وہ کسی کا نام نہیں لیں گے تو آپ ایک بار آزما کر تو دیکھ لیں،پارٹی نے یہ نہیں کہا کہ بانی کی بہنوں کی وجہ سے مسائل ہیں،بانی کی بہنوں کے احساسات کی قدر ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا الگ مینڈیٹ ہے انھوں نے تحریک چلانی ہے،بات کس سے کرنی ہے ،دونوں سے ریکویسٹ کی کہ آپکے پاس جو سیاسی آپشن ہے انکو استعمال کریں،ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام ضرور ہم نے دیا تھا،سلمان راجہ نے کہا بھی تھا،مجھے نام دیا گیا جو آگے فارورڈ کردیا،مجھے اور علامہ ناصر عباس کو ڈیڑھ گھنٹے تک بانی کی صحت پر بریف ضرور کیا گیا تھا

  چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ قیدی کا بیٹوں سے بات نہ کرانا اور عورت قیدی کا ملاقات نہ کرانا غیرانسانی سلوک ہے،راولپنڈی میں اڈیالہ ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کو اس حد تک روکنا حقوق کی خلاف ورزی اور مجرمانہ فعل ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ بانی پی ٹی آئی کا تیسرا رمضان اور آج 955 دن ہوگئے جیل میں،ان کا کہنا تھا کہ ملک تقسیم اور نفرت کا متحمل نہیں ہوسکتا، حالات کا ادارک کریں۔ ملاقاتوں کو بند کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  امریکا میں ایران جنگ پر اختلافات، سربراہ انسداد دہشتگردی سینٹر جو کینٹ مستعفی