صوبائی حکومت نے پنجاب فنانس ایکٹ 2026 کا بل صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا

Jun 16, 2026 | 22:18:PM
صوبائی حکومت نے پنجاب فنانس ایکٹ 2026 کا بل صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(حسن علی)پنجاب حکومت نے پنجاب فنانس ایکٹ 2026 کا بل صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس میں مختلف ٹیکسز، فیسوں اور ڈیوٹیز میں ردوبدل اور ریشنلائزیشن کی تجاویز شامل ہیں۔

بل کے مطابق پنجاب اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کو الیکٹرانک طریقے سے لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی اور جرمانوں کے نظام میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔

موٹر وہیکلز ٹیکسیشن ایکٹ 1958 کے تحت سالانہ ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس 2200 روپے سے بڑھا کر 6600 روپے تک کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ دیگر شرحوں میں بھی تین گنا تک اضافے کی تجویز شامل ہے۔

بل میں پنجاب فنانس ایکٹ 1973 کے چھٹے شیڈول میں ترمیم اور پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 میں متعدد اہم ترامیم بھی شامل کی گئی ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت “ایکٹو ٹیکس پیئر” کی نئی تعریف متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے مطابق دو مسلسل ٹیکس ادوار کے ریٹرنز جمع نہ کرانے والے افراد ایکٹو ٹیکس پیئر نہیں رہیں گے، جبکہ معطل یا بلیک لسٹڈ رجسٹریشن رکھنے والے افراد بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔

ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے لیے رسک بیسڈ ایویلیوایشن سسٹم متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ٹیکس دہندگان کی پروفائلنگ اور رسک اسیسمنٹ کا نیا نظام نافذ کرنے کی بھی تجویز ہے۔

بل کے مطابق مشکوک ان پٹ ٹیکس کلیمز کی جانچ پڑتال کے اختیارات متعلقہ اتھارٹی کو دینے اور غلط ٹیکس کلیمز، کریڈٹس اور ریفنڈز کی سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بعض خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی شرح میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

مزید یہ کہ کچھ انتظامی اختیارات کمشنر سے لے کر متعلقہ اتھارٹی کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، پنجاب فنانس ایکٹ 2026 کو یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پنجاب فنانس بل 2026 میں ٹیکس نظام سے متعلق متعدد اہم ترامیم اور شرحوں میں ردوبدل کی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن میں زرعی، پراپرٹی، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبے شامل ہیں۔

بل کے مطابق ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے موجودہ سالانہ نظام کو تبدیل کرتے ہوئے اسے ماہانہ بنیاد پر ایڈجسٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے،پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں بھی تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکس کی ادائیگی میں تاخیر پر ماہانہ جرمانے کی بجائے سہ ماہی بنیاد پر ٹیکس کے ساتھ جرمانہ وصول کرنے کی تجویز شامل ہے۔

زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کی سفارش کرتے ہوئے نئے سلیب متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت ساڑھے 12 ایکڑ سے زائد اراضی رکھنے والے زمینداروں پر 1000 روپے فی ایکڑ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

اس سے قبل ساڑھے 12 سے 25 ایکڑ تک 300 روپے فی ایکڑ، 25 سے 50 ایکڑ تک 400 روپے فی ایکڑ جبکہ 50 ایکڑ سے زائد رقبے پر 500 روپے فی ایکڑ زرعی انکم ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا۔نہری باغات پر ٹیکس 600 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے فی ایکٹر اور بارانی باغات پر 300 روپے سے بڑھا کر 500 روپے فی ایکٹر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت نے فصل کی بنیاد پر نہری پانی کی قیمت وصول کرنے کے بجائے فلیٹ ریٹ نظام متعارف کرانے کی بھی سفارش کی ہے۔ اس کے تحت خریف سیزن کے لیے نہری پانی کی قیمت 1650 روپے فی ایکڑ جبکہ ربیع سیزن کے لیے 850 روپے فی ایکڑ مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

سرکاری یا نجی لفٹ اریگیشن سسٹم کے ذریعے پانی کے استعمال پر 2250 روپے فی ایکڑ سالانہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر میں لوڈر گاڑیوں کے ٹیکس میں نمایاں اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ 400 سے 8120 کلوگرام استعداد رکھنے والی گاڑیوں کا ٹیکس 2200 سے بڑھا کر 6600 روپے کرنے کی تجویز ہے۔

اسی طرح 8120 سے 12000 کلوگرام تک کی گاڑیوں پر ٹیکس 4000 سے بڑھا کر 12000 روپے، 12000 سے 16000 کلوگرام تک 6000 سے بڑھا کر 18000 روپے جبکہ 16000 کلوگرام سے زائد وزن والی گاڑیوں پر ٹیکس 8000 سے بڑھا کر 24000 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے،بل میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں 99 فیصد چھوٹ دینے کی سفارش بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ریسکیو ایمرجنسی کیلئے ترقیاتی بجٹ کی تجاویز سامنے آ گئیں