پاکستانی سمندری حدود میں بلیو وہیل کی موت پرWWFنے تشویش کا اظہار کر دیا

Jun 16, 2025 | 21:06:PM
 پاکستانی سمندری حدود میں بلیو وہیل کی موت پرWWFنے تشویش کا اظہار کر دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: facebook
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اقصیٰ شیخ)ڈبلیو ڈبلیوایف پاکستان نے  پاکستان کی سمندری حدود میں بلیو وہیل کے مرنے کا واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وہیل کی نسل خطرے سے دوچار ہے،یہ دنیا بھر میں تحفظ فراہم کرنے والی کمیونٹی کے لیے افسوسناک ہے۔

ڈبلیو ڈبلیوایف کے اعلامیہ کےمطابق پاکستان اورایران کےدرمیان گوٹر بےمیں تقریباً35 فٹ لمبی نیلی وہیل کی موت کاواقعہ سامنےآیا، مقامی ماہی گیر نےبلوچستان کے علاقے کنتانی کے قریب مردہ وہیل کے تیرنے کی اطلاع دی،چندروزقبل پاکستان اور ایران کے درمیان کھلے سمندر میںوہیل کےمرنےکا امکان ظاہرکیا جارہاہے،وہیل سمندرمیں تیز بھاو کے زیراثر خلیج گوٹربے کی طرف چلی گئی،اگرچہ ابھی تک موت کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ، لیکن ایسا لگتا ہےیہ جانورگلنیٹ میں پھنس گیا،جو اس علاقے میں ساحلی اور سمندری پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

معظم خان  تکنیکی ایڈوائزرڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ دنیا بھر میں تحفظ فراہم کرنے والی کمیونٹی کے لیے افسوسناک ہے،اس وہیل کی نسل خطرے سے دوچار ہے،اس کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے،پاکستان میں نیلی وہیل کے بہت سے ریکارڈ موجود ہیں۔آخری نیلی وہیل 8 اپریل 2024 کو بلوچستان کے شہر گڈانی میں دیکھی گئی،بلیو وہیل کی زیادہ سے زیادہ لمبائی تقریباً 100 فٹ اور وزن 200 ٹن تک ہو سکتا ہے،نیلی وہیل کو اب تک کا سب سے بڑا جانور کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے 450 پاکستانی زائرین کا انخلا مکمل کر لیا گیا:اسحاق ڈار