جرمنی، 26 سالہ الجزائری طالبہ کا حجاب پہننے پر قتل،مسلم برادری کے احتجاجی مظاہرے 

Jul 16, 2025 | 18:37:PM
جرمنی، 26 سالہ الجزائری طالبہ کا حجاب پہننے پر قتل،مسلم برادری کے احتجاجی مظاہرے 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) یورپ میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان  جرمنی کے شہر ہینوور (Hanover) میں ایک 26 سالہ الجزائری نرسنگ کی طالبہ رحمہ آیت کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ 4 جولائی کو ہینوور کے آرنم ڈسٹرکٹ میں پیش آیا، جہاں رحمہ اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلی رہ رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق، رحمہ کو ان کے ہمسائے نے اسلئے نشانہ بنایا کیونکہ وہ حجاب پہنتی تھیں اور ان کی مسلم شناخت نمایاں تھی۔الجزائر کی وزارت خارجہ نے جرمنی میں تعینات سفیر Georg Felzheim  کو طلب کر کے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور جرمنی میں مقیم الجزائری باشندوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔  مسلم برادری کےاحتجاجی مظاہرے ۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمنی کے شہر ہینوور میں ایک طالبہ’’ رحمہ آیت‘‘ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق، رحمہ کو ان کے ہمسائے نے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ حجاب پہنتی تھیں اور ان کی مسلم شناخت نمایاں تھی۔رحمہ آیت کا تعلق الجزائر کے شہر وهران (Oran) سے تھا۔ وہ نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جرمنی آئی تھیں۔ ان کی والدہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ رحمہ نے حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ اپنی پریشانی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رحمہ کو اپنے پڑوسی سے خوف محسوس ہوتا تھا کیونکہ وہ اکثر ان کے حجاب اور مسلم شناخت پر نفرت انگیز تبصرے کرتا تھا۔جمعہ کی صبح اپارٹمنٹ بلڈنگ سے چیخ و پکار سنائی دی جس پر مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس جب پہنچی تو رحمہ کو زخمی حالت میں  خون میں لت پت پایاگیا۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آور ان کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوا اور انہیں چاقو کے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کیا۔ رحمہ، نے جان بچانے کی کوشش کی اور بھاگ کر سیڑھیوں میں پہنچی، مگر وہیں گر کر دم توڑ گئیں۔ ایمبولینس پہنچنے پر انہیں موقع پر ہی مردہ قرار دیا گیا۔

 الجزائر کے سفارت خانے نے 10 جولائی کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ رحمہ کے 31 سالہ جرمن ہمسائے کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ حراست میں ہے۔ اگرچہ ابھی تک مقدمہ درج نہیں ہوا، تاہم تفتیش جاری ہے۔ حملے کی اصل وجہ یا محرک کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی، مگر رحمہ کے اہلخانہ کا ماننا ہے کہ یہ جرم نفرت پر مبنی تھا۔الجزائر کی وزارت خارجہ نے جرمنی میں تعینات سفیر Georg Felzheim کو طلب کر کے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور جرمنی میں مقیم الجزائری باشندوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانکفرٹ میں الجزائری قونصل خانہ ، ہینوور کی مقامی پولیس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ رحمہ کی میت الجزائر واپس بھیجنے کے انتظامات بھی جاری ہیں۔ادھر جرمنی بھر میں اور خاص طور پر ہینوور میں عرب اور مسلم برادری نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے اس واقعے کو نفرت انگیز جرم (hate crime) قرار دینے کا مطالبہ کیا اور میڈیا کی خاموشی اور سرکاری اداروں کے غیر سنجیدہ رویے پر سخت تنقید کی۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر #JusticeForRahma کے ہیش ٹیگ کے تحت انصاف کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔ متعدد انسانی حقوق کے کارکنان، مذہبی رہنما، اور عالمی شخصیات اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ واقعہ 2009 میں ڈریسڈن جرمنی میں مصری خاتون مروہ الشربینی کے قتل کی یاد دلاتا ہے، جنہیں ایک انتہا پسند جرمن شخص نے عدالت کے اندر چاقو کے وار سے قتل کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور سے کراچی جتنا فاصلہ محض ڈھائی گھنٹے میں طے کرنیوالی ٹرین