فیملی فزیشنز اور جنرل پریکٹیشنرز کی سپیشلٹی کو مزید مضبوط کرنے کیلئے تاریخی تقریب
رائل آسٹریلین کالج آف جنرل پریکٹیشنرز اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پردستخط ہوگئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)رائل آسٹریلین کالج آف جنرل پریکٹیشنرز اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے درمیان ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت پردستخط ہوگئے۔
شعبۂ طب میں پاکستان میں فیملی فزیشنز اور جنرل پریکٹیشنرز کی سپیشلٹی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تاریخی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت رائل آسٹریلین کالج آف جنرل پریکٹیشنرز کی جانب سے پریزیڈنٹ RACGP ڈاکٹر مائیکل رائٹ نے کی،اُن کے علاوہ ڈاکٹر انیتا منوز، چیئر RACGP وکٹوریہ، ڈاکٹر ٹیس وین ڈورن،سینسر اِن چیف جارجینا وین ڈی واٹر، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر یوسف ہارون احمد، RACGP وکٹوریہ کونسل ممبر ڈاکٹر ماجد نعیم گوندل، چیئر IMG کمیٹی (VIC) کیون ڈگرسن، پبلک افیئرز مینیجراور سیو ہیفرن چیف ممبر انگیجمنٹ آفیسر بھی موجود تھے۔
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی ٹیم کی صدارت پریزیڈنٹ CPSP پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کی، اُن کے علاوہ پروفیسر محمد شعیب شفیع سینئر وائس پریزیڈنٹ،پروفیسر محمد اصغر بٹ ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ریلیشنز، پروفیسر عامر زمان خان ڈائریکٹر جنرل میڈیکل ایجوکیشن، ڈاکٹر سحر زبیر عباسی ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن، پروفیسر فریدہ امین ڈین آف فیملی میڈیسن اور ڈاکٹر عناب عنایت خان سیکریٹری فیکلٹی آف فیملی میڈیسن CPSP بھی اس موقع پر موجود تھے۔
پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کے صدر ڈاکٹر طارق محمود میاں نے بھی خصوصی طور پر اس تاریخی مفاہمتی یادداشت کی تقریب میں شرکت کی،دو عالمی شہرت یافتہ طبی اداروں کے درمیان اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد فیملی میڈیکل ایجوکیشن کی ترقی، ٹریننگ کے معیار کو مزید بہتر بنانا اور اس سلسلے میں دونوں اداروں کے درمیان وژن کی شراکت کو تقویت دینا ہے، دونوں اداروں کے باہمی تعاون سے شعبۂ طب میں تحقیقی کلچر کو فروغ حاصل ہوگا، جس سے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ مریضوں کے علاج معالجے میں بھی جدید ٹیکنالوجی سے افادیت حاصل ہوگی۔
ڈائریکٹر جنرل میڈیکل ایجوکیشن CPSP پروفیسر عامر زمان خان نے CPSP کی جانب سے RACGP کی ٹیم کو خوش آمدید کہا، جبکہ RACGP کی جانب سے ڈاکٹر انیتا منوزنے CPSP کی ٹیم کو خوش آمدید کہا۔
ڈاکٹر مائیکل رائٹ نے اس تاریخی MOU کے وژن کے بارے میں آگاہ کیا، جبکہ پریزیڈنٹ CPSP پروفیسر خالد مسعود گوندل نے CPSP کی قومی اور بین الاقوامی خدمات پر روشنی ڈالی اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کے سلسلے میں یوکے، آئرلینڈ اور سارک ممالک کے ساتھ کی گئی کاوشوں کی تفصیلات بھی بیان کیں۔
RACGP اور CPSP کی اس تاریخی باہمی یادداشت کی اہمیت،اس کی افادیت، مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے اور خاص طور پر شعبۂ فیملی میڈیسن کے بارے میں RACGP کی چیف ایگزیکٹو آفیسرجارجینا وین ڈی واٹر اور CPSP کی جانب سے ڈاکٹر عناب عنایت خا ن نےتفصیل سے روشنی ڈالی،بعد ازاں ڈاکٹر مائیکل رائٹ اورپروفیسر خالد مسعود گوندل نے باہمی یادداشت کی دستاویز پر دستخط کیے اور باہمی طور پر یہ دستاویزات شیئر کیں، اس موقع پر جارجینا وین ڈی واٹر اور ڈاکٹر سحر زبیر عباسی نے مستقبل کے لائحۂ عمل کے متعلق بتایا جبکہ ڈین آف فیملی میڈیسن پروفیسر فریدہ امین نے اس باہمی یادداشت پر دستخط کی تقریب کے انعقاد پر دونوں اداروں کی ٹیموں کو مبارکباد دی اور خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں:کویت جانے کے خواہشمند غیرملکیوں کیلئے بڑی خبر آگئی
صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق محمود میاں نے اس موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں اداروں کے صدور کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کیونکہ شعبۂ فیملی میڈیسن کی ترقی پاکستان کے طبی نظام کی ایک بنیادی ضرورت ہے، اور یہ شعبۂ طب میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی ترقی سے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بھی مریضوں کو ان کی دہلیز پر بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں گی۔