ایلون مسک کے کوویڈ 19 ویکسین سے متعلق بیانات کے بعدنئی بحث چھڑ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)ٹیسلا، اسپیس ایکس، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک کے کوویڈ 19 ویکسین سے متعلق بیانات کے بعد کوویڈ ویکسین کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی۔
ایلون مسک نےایک بیان میں کہا تھا کہ کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لیے لگوائی گئی ویکسین کی خوراک واضح طور پر بہت زیادہ تھی اور اس کا بار بار لگوانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اُنہوں نے دعویٰ کیاتھا کہ دوسری خوراک کے بعد میں شدید بیمار ہو گیا تھا۔
ایلون مسک کےان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر ویکسین کے مضراثرات سے متعلق مختلف دعوے گردش کرنے لگے،طبی ماہرین نے ایلون مسک کے کوویڈ 19 ویکسین سے متعلق دعوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین اب بھی شدید بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ذاتی تجربات کو سائنسی شواہد پر ترجیح نہیں دی جا سکتی،کوویڈ ویکسین تقریباً 95 فیصد تک شدید بیماری اور اموات سے بچاؤ میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی میں ویکسین سے مبینہ اموات کے دعوے بھی زیرِ بحث آئے جن میں 20000 سے 60000 اموات کا ذکر کیا گیا،یہ دعوے ایک ریٹائرڈ ٹاکسی کولوجسٹ ڈاکٹر ہیلمٹ اسٹرز سے منسوب ہیں،تاہم ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار مستند سائنسی تحقیق سے ثابت نہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوویڈ ویکسین مکمل تحفظ نہیں دیتی لیکن شدید بیماری سے بچاتی ہے، ویکسین لگوانے سے سنگین مضر اثرات نہایت کم ہوتے ہیں اور ویکسین کے فوائد اس کے خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ،فی تولہ قیمت کیاہوگئی؟
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مشہور شخصیات کے ذاتی بیانات غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں، طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے بجائے مستند طبی ذرائع اور ماہر ڈاکٹروں سے رہنمائی حاصل کریں۔