گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں دوسرا کُل پاکستان 2روزہ ادبی میلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی روایت ساز مجلسِ اقبال کے زیرِ اہتمام دوسرا کُل پاکستان 2 روزہ ادبی میلہ(بیادِ ناصر کاظمی) 12 اور13 نومبر 2025 کو منعقد ہوا، ملک بھر کی مختلف جامعات سے27 ادبی اصناف میں300ے زائد تخلیقات موصول ہوئیں۔
اس میلے میں بیتبازی، علمی و ادبی نشستیں، اہل قلم کے ساتھ مکالماتی سلسلے، چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو سیشن، مختلف اصنافِ ادب پر ورکشاپس، دستاویزی فلم، پنجابی ناٹک، شام غزل اور سالانہ مشاعرہ شامل تھے۔
پہلے روز بخاری آڈیٹوریم میں صبح آٹھ سے دو بجے تک شاعری اور بیتبازی سمیت مختلف مقابلہ جات کا انعقاد ہوا، جس میں صدر مجلسِ اقبال محمد اویس نے صدارتی نشست سنبھالتے ہوئے جنرل سیکرٹری محسن علی نقوی کے ساتھ میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔
بعد ازاں دوپہر تین بجے تک صحافت سے وابستہ معروف شخصیت محترمہ مہ پارہ صفدر کے ساتھ ’’یَہ مسائلِ تلفّظ 2.0‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی نشست کا انعقاد ہوا۔ میزبانی کے فرائض ماورا ستارہ نے بطریقِ احسن انجام دیے اور نشست میں ان کی صحافتی زندگی کے ساتھ ساتھ تلفظ کی باریکیوں اور مسائل پر ایک سیر حاصل گفتگو کی۔

پہلے روز کے اختتام پر شامِ غزل کا اہتمام کیا گیا جس میں اریز مرتضیٰ، کاظم رضا رضوی، محسن اسلم اور بلال قریشی کی مسحور کن آواز نے محفل میں سماں باندھ دیا اور حاضرین دیر تک مسحور رہے۔
شام غزل میں استاد غلام عباس اور اُن کے صاحبزادے کی خصوصی شرکت نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ پہلے روز کا اختتام شام چھ بجے تقریبِ تقسیمِ انعامات کے ساتھ ہوا اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سب سے زیادہ پوزیشنز کے ساتھ ٹیم ٹرافی کی حقدار قرار پائی۔
دوسرے روز بھی بخاری آڈیٹوریم میں آغاز سے اختتام تک خوب رونق رہی، جہاں صبح نو سے دس بجے تک ’’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک پُرمغز پینل ٹاک کا انعقاد ہوا۔
جس میں جی سی یونیورسٹی لاہور سے مختلف اصناف میں بہترین لکھاری طلباء، حذیفہ یوسف، فاروق پاشا، انس رحمان اور عائشہ مشرف نے احسان جنجوعہ سے مکالمہ کیا، اور اپنے شعری سفر اور کلاسیکی اور عصری شاعری پر عمیق گفتگو کی، جبکہ اُسوہ مریم نے بیرونی نکتہ نظر پیش کیا۔
گیارہ سے بارہ بجے تک مقابلہِ بیتبازی کے فائنل مرحلے کا انعقاد ہوا، جس میں ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد پنجاب یونیورسٹی نے میدان مار لیا اور ایم اے او کالج کی ٹیم دوسری جبکہ جامعہ زرعی فیصل آباد تیسری پوزیشن کی حقدار قرار پائی۔
مقابلہِ بیت بازی کے بعد تھیٹر ریپبلک نے فاروق پاشا کی رہنمائی میں اپنے شہرۂ آفاق ڈرامے ’’Waiting for Godot‘‘ کا پنجابی روپ ’’اُڈیک‘‘ پیش کیا اور یہ سلسلہ گیارہ سے ایک بجے تک جاری رہا۔
بعد ازاں ایک سے دو بجے تک ناصر کاظمی مذاکرہ بعنوان ’’آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی، سب مزہ رفتگاں نے چھین لیا‘‘ منعقد ہوا، اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر صائمہ ارم نے کی، جبکہ شرکاء گفتگو میں ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، ڈاکٹر ساجد علی اور احسان جنجوعہ شامل تھے۔
تمام شرکا نے ناصر کاظمی اور ان کی اداسی کی تہذیب پر معنویت سے بھرپور مکالمہ کیا، ایک سے دو بجے تک احمد تاجی نے ’’Re-Introduction to Theatre‘‘ پر ایک سیشن کی میزبانی کی جبکہ دو سے تین بجے تک جناب عامر فراز نے اتاقِ ایران شناسی میں تربیتی نشست بعنوان “مجلسّی تنقید: روایت، مشاہدات اور امکانات” کا انعقاد کیا۔
اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے نگران مجلسِ اقبال، ڈاکٹر سفیر حیدر نے مختلف جامعات سے تشریف لانے والے شرکاء مقابلہ، مہمانان اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُن کی شرکت کو اس ادبی میلے کی کامیابی قرار دیا اور احمد مشتاق کے اس شعر کے ساتھ کل پاکستان دو روزہ ادبی میلے کا اختتام کیا۔