کیاڈرہے کہ تھیٹرز کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کر دئیے جاتے ہیں 

تحریر ۔۔۔۔زین مدنی حسینی 

Dec 15, 2025 | 21:49:PM
کیاڈرہے کہ تھیٹرز کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کر دئیے جاتے ہیں 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب کی تھیٹر انڈسٹری اس وقت اصلاح نہیں بلکہ کھلی بغاوت کی حالت میں ہے اور لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی کے متعدد تھیٹرز قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ کر سٹیج کو فحاشی کا بازار بنائے ہوئے ہیں۔

 حکومتِ پنجاب اور پنجاب کونسل آف دی آرٹس کی جانب سے بار بار وارننگز، ہدایات اور اصلاحی اقدامات کے باوجود چند مخصوص اداکارائیں اور تھیٹر مالکان ڈھٹائی سے غیر اخلاقی ڈانس پرفارمنسز جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ کوئی لاعلمی نہیں بلکہ سوچی سمجھی ضد ہے کیونکہ مانیٹرنگ کے لیے نصب سی سی ٹی وی کیمرے جان بوجھ کر بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ پردے کے پیچھے ہونے والی غلاظت چھپی رہے، اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو کیمروں سے خوف کیوں، پنجاب کونسل آف دی آرٹس نے اس کھلی قانون شکنی پر متعدد تھیٹرز کو سی سی ٹی وی بند رکھنے پر نوٹسز جاری کیے اور غیر اخلاقی حرکات میں ملوث اداکاراؤں سے وضاحت بھی طلب کی مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسٹیج پر نہ حیا آئی نہ شرم، یہ تھیٹر نہیں بلکہ ایک منظم مافیا بن چکا ہے جہاں ٹکٹوں کی فروخت کے لیے معاشرتی اقدار، ثقافت اور قانون سب قربان کر دیے گئے ہیں۔

 چند اداکاراؤں کی بدنمائی نے پوری فنکار برادری کو مشکوک بنا دیا ہے اور وہ سنجیدہ فنکار جو اسٹیج کو عزت دینا چاہتے ہیں گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں، خاندانی ناظرین کب کے تھیٹر سے منہ موڑ چکے ہیں اور جو بچے کھچے تماشائی آتے ہیں وہ فن دیکھنے نہیں بلکہ وہی کچھ دیکھنے آتے ہیں جسے قانون غیر اخلاقی قرار دے چکا ہے، تھیٹر مالکان کی خاموشی بھی مجرمانہ ہے جو جانتے سب کچھ ہیں مگر کمائی کے لالچ میں اندھے بنے ہوئے ہیں، اب سوال یہ نہیں کہ نوٹس جاری ہوئے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ عملی کارروائی کب ہوگی، کب ایسے تھیٹرز کے لائسنس منسوخ ہوں گے۔

 کب سی سی ٹی وی کیمروں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا اور کب غیر اخلاقی پرفارمنسز کرنے والی اداکاراؤں پر مستقل پابندی لگے گی، اگر حکومت نے اب بھی نرمی دکھائی تو یہ انڈسٹری خود اپنے ہاتھوں دفن ہو جائے گی اور پھر اس تباہی کا الزام حکومت پر نہیں بلکہ انہی تھیٹرز اور اداکاراؤں پر آئے گا جنہوں نے اسٹیج آرٹ کو ناچ گانے کی نچلی ترین سطح تک گرا دیا، تھیٹر تفریح کے نام پر فحاشی نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور سماجی شعور کا آئینہ دار ہونا چاہیے اور اگر یہ حقیقت آج نہ سمجھی گئی تو کل پنجاب کا تھیٹر تاریخ کا حصہ بن جائے گا، زندہ فن نہیں رہے گا۔