بھارت کے بوڑھے نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم کو ایک اور شدید دھچک، ایک اور سیٹلائٹ لڑھک گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) بھارت کے بوڑھے نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم کو ایک اور شدید دھچکا لگ گیا۔ عالمی سطح پربڑبولے بھارت کے لیے شرمندگی کا نیا سامان ہو گیا۔ بھارتی میڈیا زمین ، فضااورسمندر میں ناکامی کے بعد خلا میں بھی بھارت کی ناکامیوں کی داستانوں سے بھر گیا۔
بھارت کے سپیس ریسرچ آرگنائزیشن ISRO کی حالیہ بد ترین ناکامی یہ سامنے آئی کہ اس ادارہ کے بنائے ہوئے نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم کے ایک اور سیٹلائٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ بھارت کے ادارہ انڈین ڈیفینس ریسرچ ونگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کا نیوی گیشن وِد انڈین کونسٹی لیشن سسٹم تباہی کے کنارے پر پہنچ گیا ہے۔ سسٹم کے 11 میں سے صرف 4 سیٹلائت کام کر رہے ہیں۔ اس بھارتی ادارہ نے اس سارے منسوبے کو "ایمبیشئیس" قرار دیا۔
نیوک کا ایٹمی ا کلاک ناکارہ ہو گیا
بھارت کے میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق کے مقامی نیویگیشن سیٹلائٹ نظام، نیوی گیشن وِد انڈین کونسٹیلیشن NavIC کے ایک اور اہم سیٹلائٹ کا ایٹمی کلاک اچانک بندہوگیا۔ اس کلاک کی عدم موجودگی میں سارا نظام عملاً مزید بے کار ہو گیا ہے۔
بھارتی رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ بڑبولے بھارت کی طرف سے جی پی ایس GPS کے بھارتی متبادل کے طور پر پیش کیا جانے والا NavIC مسلسل تکنیکی مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا اس لوکل نیوی گیشن سسٹم کو آسمان میں بھارت کی آنکھیں قرار دیتا تھا، اب اس نظام کے عملاً ناکارہ ہو جانے سے بھارت کو اندھا لکھنے کی بھارتی میڈیا میں کسی میں ہمت نہیں ہو رہی۔
،مصدقہ رپورٹس کے مطابق ایک اور سیٹلائٹ کی خرابی کے بعد NavIC مطلوبہ آپریشنل حد سے نیچے گر گیا ہے۔ اس کے نیویگیشن سسٹم کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: افغان طالبان کی وزارتِ دفاع، وزارتِ جھوٹ بن گئی، پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کرنے کا بچگانہ جھوٹ گھڑ لیا
بھارتی میڈیا کے مطابق سنگین خرابی نے بھارت کی مقامی نیویگیشن صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے-
بھارتی میڈیا کی رپورٹس مین کہا جا رہا ہے کہ اس واقعے نے بھارت کے ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ دنیا میں سبکی ہوئی ہے اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

دفاعی اور سٹریٹجک نیویگیشن منصوبہ بھی دباؤ میں، سیٹلائٹ ناکامی نے خلائی پروگرام کی کارکردگی پر نئے سوال کھڑے کر دییئے ہیں۔ اس سے پہلے جنوری میں بھارت کا خلائی پروگرام ایک اور رسوائی کی تاریخ رقم کر چکا ہے۔ جنوری میں بھارت کی پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV C62) آندھرا پردیش اڑان کے دوران ناکام ہوگئی تھی۔
یہ بھارت کے مانگے تانگے کے خلائی پروگرام کی 2021 کے بعد پانچویں بڑی ناکامی تھی۔
انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی بدترین ناکامیاں ، دراصل ناکامیوں کی ختم نہ ہونے والی داستان ہیں؛ 2021 سے اب تک 16 سیٹلائٹس راکھ ہو چکے ہیں۔

نیوک کا بنیادی مسئلہ؛ ٹیکنالوجی پرانی، نیوک بوڑھا ہو چکا ہے
بھارت کے سائنسدان نیوک کی حالیہ خرابی کو کم ظاہر کرنے کی بچگانہ کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ بھی مان رہے ہیں کہ نیوک کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کے بہت سے سیٹلائٹ عمر رسیدہ یا ناکام ہو رہے ہیں۔
اصل نظام کو 7 سیٹلائٹس کے ساتھ جیو سٹیشنری اور جیو سنکرونس مدار میں کام کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
تاہم مانگے تانگے کی ٹیکنالوجی پر خود عبور نہ ہونے کے باعث بھارتی سائنسدانوں کے کئے ہوئے کام میں کئی مسائل سامنے آئے:
کچھ سیٹلائٹس کی ایٹمی گھڑیاں ناکام ہوگئیں، جو کام کر رہی ہیں ان کی درستگی کم ہو رہی ہے۔
اس کے کئی سیٹلائٹس نے اپنی کام کرنے کی طے شدہ عمر سے تجاوز کر لیا ہے۔
حالیہ رپورٹس میں یہ سامنے آیا کہ نیول NavIC کے صرف چار سیٹلائٹ مکمل طور پر کام کر رہے تھے، جس سے سیٹلائٹ کی کونسٹی لیشن ریلائبلٹی constellation reliability کے بارے میں خدشات بڑھ رہے تھے۔
اس کی وجہ سے، ماہرین نے کہا کہ سسٹم کی آپریشنل طاقت کمزور پڑ گئی ہے۔
ایک سیٹلائٹ کی کونسٹیلیشن ریلائبلٹی یہ امکان ہے کہ سیٹلائٹ کا ایک گروپ کامیابی کے ساتھ اپنے مطلوبہ مشن کے افعال (جیسے نیویگیشن یا کمیونیکیشن) کو کسی خاص مدت تک ناکامی کے بغیر انجام دے گا۔ یہ مجموعی طور پر نیٹ ورک کی فعال دستیابی کی پیمائش کرتا ہے- اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوریج اور کارکردگی کے معیارات کو پورا کرنے کے لیے کافی سیٹلائٹ آپریشنل ہیں۔
متبادل سیٹلائٹ فراہم کرنے میں دھچکا
بھارت نے عمر رسیدہ سیٹلائٹس کو تبدیل کرنے کے لیے سیٹلائٹس کی دوسری نسل (NVS سیریز) لانچ کرنا شروع کر دی۔ لیکن مانگے تانگے کے علم سے چلنے والے ادارے کو اس کام میں بھی مشکلات تھیں۔
NVS-02 سیٹلائٹ مشن کو تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مطلوبہ مدار تک پہنچنے میں ناکام رہا، جس سے متبادل منصوبہ سست ہو گیا۔
اس سے نیوک NavIC سسٹم کو کام کرنے کے قابل رکھنے کے لئے اس کی مضبوطی میں تاخیر ہوئی۔
نیوک کی بحالی کا موجودہ منصوبہ (2025-2026)
ہندوستان اب دوسری نسل کے NavIC سیٹلائٹس کے ساتھ نیوک کو دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس منصوبہ کے تحت منصوبہ بند لانچوں میں NVS-03، NVS-04، NVS-05 شامل ہیں۔بھارتی حکومت کو گمان ہے کہ یہ لانچیں 2026 تک سسٹم کو بحال کر سکیں گی اور وسعت دیں گی۔ اور L1 فریکوئنسی کو شامل کریں گے، جس سے اسمارٹ فونز اور سویلین آلات کے ساتھ بہتر مطابقت پیدا ہوگی۔ ناقدین کو بھارت کے اس منصوبہ کی مزید ناکامیوں کے سامنے آنے کا یقین ہے۔