آٹھ فروری کی کال ہمارے الائنس کی ہے، بانی کی نہیں، علیمہ خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ارشاد قریشی) علیمہ خان نے کہا ہے کہ آٹھ فروری کی کال ہمارے الائنس کی ہے، بانی کی نہیں ہے۔ بانی نے سہیل آفریدی کو سٹریٹ مومنٹ کی ہدایت کی ہے۔ بانی پی ٹی آئی ملک میں رول آف چاہتے ہیں، بانی نے کبھی نہیں کہا میرے لئے باہر نکلو۔
علیمہ خان نے یہ باتیں آج انسداد دہشتگردی عدالت میں اپنے خالف مقدمہ کی سماعت کے بعد اپنے وکیل کے ساتھ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہیں۔
علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، میں نے عدالت سے کہا کہ بانی نے عدلیہ کی آزادی کیلئے پرامن احتجاج کا کہا تھا۔ عدالت سے کہا کہ آپ کی آزادی کیلئے آواز اٹھانے پر ہمیں ہی جیلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔علیمہ خان نے کہا، اگر عدالتوں سے انصاف مل رہا ہوتا تو ہماری حالت یہ نہ ہوتی۔
انہوں نے کہا، اڈیالہ جیل کے باہر قرآن خوانی کو بھی جرم بنایا جارہا ہے۔گزشتہ رات ہم جب گھر واپس روانہ ہوئے تو روات تھانے کے ایس او نے ہمارے لوگوں کو گرفتار کیا۔ ہماری تین خواتین کارکنان کو پولیس نے کل گرفتار کیا۔پولیس نے گزشتہ رات ہمارے لوگوں کی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لیں۔آٹھ سے زائد گاڑیاں کل پولیس اٹھا کے لے گئی۔ہمارے لوگوں نے گاڑیاں چھڑوانے کیلئے پولیس کو پیسے دئیے ہیں۔
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ پانچ لاکھ روپے ہر کارکن سے تاوان مانگا جارہا ہے۔تھانہ روات کے ایس ایچ او کے خلاف کون اب درخواست دے گا۔ایس ایچ او روات زاہد ظہور نے ہمارے لوگوں کو گرفتار کیا۔
علیمہ خان نے مزید کہا ، بانی پی ٹی آئی کو غیر قانونی طریقے سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ہم نے بانی کیلئے کچھ کتابیں عدالت کو دی ہیں۔عدالت کا شکریہ وہ ہماری کتابیں جیل میں پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے مقدمہ میں چھ گواہوں پر جرح مکمل
علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے اس موقع پر میڈیا سے گرفتگو کرتے ہوئے کہا، آج علیمہ خان کے کیس میں چھ گواہان پر جرح کرلی ہے۔سوشل میڈیا سے ڈاون لوڈ کی گئی وڈیوز میں احتجاج کا کہیں ذکر نہیں۔ایک گواہ نے سوشل میڈیا سے وڈیوز ڈاون لوڈ کی ہیں۔وڈیوز سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا کہ یہ کس سورس سے لی گئیں۔کوئی قابل اعتراض بات سامنے نہیں آئی۔
علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے سے گفتگو کے دوران بتایا کہ آج علیمہ خان کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن جرح کے دوران بے جا مداخلت کرتی رہی۔
کوئی مواد ابھی تک سامنے نہیں آیا جس میں علیمہ خان پر الزامات ثابت ہوں۔ تمام گواہوں کا تعلق پولیس سے ہے۔ پنجاب پولیس اس وقت پنجاب حکومت کے ماتحت ہے۔
ی ہبھی پڑھیئے: شوہر نےروٹھی بیوی کو گولی مار کر خودکشی کر لی