کچھ کمپنیاں زیادہ ٹیکسوں، مہنگی توانائی کی وجہ سے پاکستان چھوڑ رہی ہیں:وزیرخزانہ کا اعتراف 

Jan 14, 2026 | 10:05:AM
 کچھ کمپنیاں زیادہ ٹیکسوں، مہنگی توانائی کی وجہ سے پاکستان چھوڑ رہی ہیں:وزیرخزانہ کا اعتراف 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے حکومت معیشت کو درپیش چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے، انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ کمپنیاں زیادہ ٹیکسوں اور مہنگی توانائی کی وجہ سے ملک چھوڑ رہی ہیں۔

پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی اب وزارت خزانہ کے پاس ہے، ایف بی آر کا کام ٹیکس محصولات جمع کرنا ہے، ایف بی آر کی توجہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہے، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا، گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے اور رواں سال 41 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہونےکی توقع ہے۔

محمداورنگزیب نے کہا کہ ٹیرف شعبے میں بڑے اصلاحات متعارف کرائے ہیں، یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں، ہمیں تسلیم کرناچاہیےکہ ٹیکس زیادہ ہے یاانرجی قیمت زیادہ ہےتو یہ حقیقی مسائل ہیں، ہم جتنی ڈیوٹیز بڑھاتےجائیں تو یہ ہمارے لیے نقصان ہے، ہمیں ڈیوٹیز کو معقول بنانا ہوگا اورکاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ غیربینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیاجارہاہے، برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانے کےلیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے، رواں سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، حکومتی اصلاحات کا مقصد ملکی خزانے پر بوجھ کو کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسافر ٹرین کو حادثہ،ہلاکتیں،کہرام مچ  گیا

وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، پہلی بارٹیرف اصلاحات کےذریعے خام مال پرڈیوٹیز کوکم کیا، موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کےلیے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہوسکتی ہیں جب کہ قرضوں کی ادائیگی خودکم نہیں ہوئی، ہم نے اقدامات کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے گئے ہیں، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپےضائع ہورہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہورہی تھی۔