سندھ کا3,451.87 ارب روپے کابجٹ،تنخواہوں میں12 اورپنشن میں8 فیصداضافہ 

تعلیم کیلئے523.73 ارب روپے مختص، کراچی کی ترقی پربھی خصوصی توجہ دی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

Jun 13, 2025 | 16:24:PM
سندھ کا3,451.87 ارب روپے کابجٹ،تنخواہوں میں12 اورپنشن میں8 فیصداضافہ 
کیپشن: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بجٹ پیش کررہے ہیں
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے مالی سال 26-2025کے لیے صوبائی بجٹ پیش کردیا۔

بجٹ کا حجم 3,451.87 ارب روپے رکھا گیاہے جوگزشتہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ تخمینے 3,056.3 ارب روپے کے مقابلے میں 12.9 فیصد زائدہے۔

مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کے عوام نے پیپلزپارٹی پر اعتمادکااظہار کیا، بجٹ کا حجم 34کھرب51ارب روپے رکھاگیا ہے،وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف کا اعلان  کرتے ہوئے کہاکہ گریڈ16تک تنخواہوں میں 12فیصد اضافہ ہوگا، گریڈ17سے 22تک ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ ہوگا، گریڈ17سے 22کے ملازمین کو 10فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا،پنشن میں 8فیصد اضافہ کیا جائے گااور معذور ملازمین کیلئے کنوینس الاؤنس بڑھایا گیا ہے۔

بجٹ میں تعلیم،صحت، انفراسٹرکچر اور فلاحی شعبے کےلیے اضافی فنڈز مختص کئے گئے ہیں، گورننس کو جدید بنانے اور معیشت کو فروغ دینے کے اقدامات بھی بجٹ میں شامل ہیں،بجٹ میں جاری اخراجات کی مد میں 2,149.4 ارب روپے رکھے گئے ہیں  جبکہ  گزشتہ سال جاری اخراجات 1,912.36 ارب روپے تھے۔

تعلیم کے لیے بجٹ میں 12.4 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 523.73 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،تعلیمی بجٹ کل جاری اخراجات کا 25.3 فیصد بنتا ہے،پرائمری تعلیم کا بجٹ 136.2 ارب سے بڑھا کر 156.2 ارب روپے جبکہ سیکنڈری تعلیم کا بجٹ 68.5 ارب سے بڑھا کر 77.2 ارب روپے کر دیا گیاہے،نئے مالی سال میں 4400 اساتذہ اور عملے کی بھرتی کا فیصلہ بھی کیاگیاہے،اس کے علاوہ چار آئی بی اے کمیونٹی کالجز کے قیام کا اعلان کیاگیاہے، 34،100سے زائد پرائمری سکولوں کو علیحدہ بجٹ اور اخراجات فراہم کیے جائیں گے،غریب اور ہونہار طلبہ کی معاونت کےلیے سندھ ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ میں 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ڈیفرنٹلی ایبلڈ پرسنز ڈویلپمنٹ پروگرام کا بجٹ 11.6 ارب روپے سے بڑھا کر 17.3 ارب روپے کر دیا گیاہے،مختص رقم سے معاون آلات، وظائف اور این جی اوز کے ساتھ شراکت داری میں مدد فراہم کی جائے گی،صحت کے لیے 326.5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ،صحت کا بجٹ پچھلے سال کے 302.2 ارب روپے کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے، 146.9 ارب روپے صحت کے اداروں اور یونٹس کو گرانٹس کی مد میں دیئے جائیں گے،سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 19 ارب اور پیپلز پرائمری ہیلتھ انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے لیے 16.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں،لاڑکانہ میں ایک نئے ہسپتال کے لیے 10 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ  ایمبولینس سروس اور موبائل تشخیصی یونٹس کو دیہی علاقوں تک توسیع دینے کا اعلان کیاگیاہے، مالیاتی منتقلی میں متوقع کمی کے باعث سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 20 فیصد کٹوتی کی گئی ہے،سالانہ ترقیاتی پروگرام 520 ارب روپے تک محدود کردیا گیا ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں،قابل تجدید توانائی، پسماندہ اضلاع،صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی 475 نئی سکیمیں بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے، تعلیم کےلیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں 99.6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صحت کےلیے45.37 ارب روپے اور آبپاشی کے ترقیاتی منصوبوں کےلیے73.9 ارب مختص کئے گئے ہیں، بلدیاتی حکومتوں کےلیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ 132 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

نئے صوبائی بجٹ میں کراچی کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، کراچی میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے بھی بجٹ میں شامل ہیں، سڑکوں کی مرمت،سیوریج اور پانی کی فراہمی کے نظام کی بہتری کےلیے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں، کراچی میں شہری ٹرانسپورٹ کو وسعت دی جائے گی اور 50 الیکٹرک بسیں کراچی میں متعارف کرائی جائیں گی، کراچی کی الیکٹرک بسوں کے قافلے میں اگست 2025 تک مزید 100 بسیں شامل کی جائیں گی۔

کراچی کے بی آرٹی منصوبوں میں پیش رفت، ییلو لائن تکمیل کے قریب،ریڈ لائن 50 فیصد سے زائد مکمل، کراچی سیف سٹی پروجیکٹ میں مصنوعی ذہانت سے لیس سی سی ٹی وی کیمروں اور کوریج میں وسعت، کورنگی کاز وے پل اور شاہراہِ بھٹو کی بہتری کےلیے اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔سندھ کے تاریخی مقامات کی بحالی، کاروباری علاقوں کی بہتری اور اہم سڑکوں کی تعمیر کے لیے نئی اسکیمیں بھی سالانہ ترقیاتی منصوبے کا حصہ ہیں، بجٹ میں ڈیجیٹل گورننس کےلیے بھی کئی اقدامات کا اعلان کیاگیاہے ،منصوبوں کی براہ راست نگرانی کےلیے مرکزی کے پی آئی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کا آغازکیاگیاہے،زمین کے ریکارڈ کی بلاک چین پر منتقلی سے لین دین میں شفافیت اور آسانی آئے گی،ڈیجیٹل پیدائشی رجسٹریشن نظام متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیاگیاہے، 2028 تک 100 فیصد کوریج کا ہدف مقررکیاگیاہے، ڈیجیٹل پیدائشی رجسٹریشن نظام کو صحت و تعلیم کے ڈیٹا سے مربوط کیا جائے گا۔

نئے صوبائی بجٹ میں زرعی اصلاحات پر خصوصی توجہ، 2 لاکھ سے زائد کسانوں کو سبسڈی اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی کےلیے بینظیر ہاری کارڈ کا اجراء اور ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت کے فروغ کے لیے ڈرپ اریگیشن پر سبسڈی دینے کابھی فیصلہ کیاگیاہے،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کلسٹر فارمنگ منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیاگیاہے،ترقی پسند کسانوں کو بغیر سود قرضے فراہم کرنے کے لیے سندھ کوآپریٹو بینک کے قیام کی فزیبلٹی سٹڈی جاری کردی گئی ہے، سماجی فلاح پر بھی نئے صوبائی بجٹ میں خصوصی توجہ دی گئی ہے ،تعلیم کے بجٹ کو مرکز سے سکولوں کی سطح پر منتقل کر دیا جائے گا،سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو انتظامی اخراجات کے لیے براہِ راست فنڈز دستیاب ہوں گے،معذور افراد کے لیے سہولیات بڑھائی جائیں گی،وظائف میں اضافہ اور نئے بحالی مراکز کا قیام بھی بجٹ میں شامل ہے، سندھ بھر میں یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز کے قیام کا اعلان کیاگیاہے،شہریوں کا مالی بوجھ کم کرنے کےلیے 5 محصولات ختم کرنے کا اعلان کیاگیاہے،سندھ میں پروفیشنل ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیاگیاہے،موٹر وہیکل ٹیکس میں کمی اورسیلز ٹیکس کو آسان بنانے کے لیے نیگیٹو لسٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

 وزیراعلیٰ سندھ  مرادعلی شاہ نے کہاکہ گریڈ 1 سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کو12 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس ملےگا جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائےگا، پنشن میں 8 فیصد اضافہ ہوگا،اس کے علاوہ معذور ملازمین کے لیے کنوینس الاؤنس میں اضافہ، واجب الادا پنشن کی مکمل ادائیگی، وکلا، صحافیوں اور اقلیتوں کے لیے فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کی مد میں بھی خصوصی گرانٹس فراہم کرنے کااعلان کیاگیاہے ۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے اور ملک کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اتحاد اور اجتماعی کوششوں کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک جامع بجٹ ہے۔