ٹرمپ کا گرین لینڈ پر قبضے کا منصوبہ،یورپی یونین نے خبردار کر دیا

Jan 13, 2026 | 10:49:AM
ٹرمپ کا گرین لینڈ پر قبضے کا منصوبہ،یورپی یونین نے خبردار کر دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(  ویب ڈیسک )گرین لینڈ کی حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امریکا کی جانب سے جزیرے پر قبضہ قبول نہیں کرے گی۔

یہ ردِعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا گرین لینڈ کو “کسی نہ کسی طریقے سے” اپنے کنٹرول میں لے گا۔

 گرین لینڈ کی حکومت نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے جزیرے پر قبضے کی خواہش کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

 حکام کے مطابق گرین لینڈ ایک خودمختار جمہوری معاشرہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت عمل کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ گرین لینڈ امریکا کی قومی اور عالمی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور اگر امریکا نے کنٹرول حاصل نہ کیا تو روس یا چین ایسا کر سکتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ امریکا گرین لینڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم نتیجہ بہرحال امریکا کے حق میں ہوگا۔

  یہ بھی پڑھیں:میاں بیوی کی ایک جیسی شکل ، دیکھنے والے حیران رہ گئے

گرین لینڈ کی حکومت نے کہا کہ جزیرہ ڈنمارک کی خودمختار سلطنت کا حصہ ہے اور نیٹو کا رکن ہونے کے ناطے اس کا دفاع بھی نیٹو کے فریم ورک کے تحت ہی ہونا چاہیے۔

 بیان میں کہا گیا کہ تمام نیٹو ممالک، بشمول امریکا، گرین لینڈ کے دفاع میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ نے ڈنمارک کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے گرین لینڈ کی خودمختاری کی حمایت کی تھی۔

 یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی طریقے سے گرین لینڈ پر قبضہ کیا تو یہ نیٹو کے لیے شدید بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

گرین لینڈ اگرچہ صدیوں تک ڈنمارک کے زیرِ اثر رہا، تاہم 1979 کے بعد اسے اندرونی خودمختاری حاصل ہوئی اور تمام سیاسی جماعتیں مستقبل میں مکمل آزادی کے امکان کی حامی ہیں۔

 عوامی سروے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ گرین لینڈ کے عوام امریکی قبضے کے سخت خلاف ہیں۔