پاکستان کو امریکہ سے تعاون کی ہمیشہ سزا ہی ملی ہے :سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ سے تعاون کی ہمیشہ سزا ہی ملی ہے، تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئےسلیم بخاری نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے حوالے سے 1970 سے تعاون کر رہے ہیں.
مگر یہ تعاون 2001میں اس شدت اس وقت آئی جب 9/11 کا واقعہ پیش آیا۔ اس سے پہلے روس کے خلاف افغان جہاد میں امریکہ کی مدد کی اور یہ مدد جب روس نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالا تب جا کر ختم ہوئی۔
سلیم بخاری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہےاب کے جو مقاصد ہیں اس میں ایک تو یہ کہ ٹرمپ اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ یہ امریکہ کی دوہری پالیسی ہے کہ ایک انکھ سے وہ اس دہشتگردی کو تو دیکھ رہا ہے لیکن دوسری انکھ سے اسرائیلی دہشتگردی کو دیکھنے پر آمادہ نہیں ہے۔
امریکہ نے اتنے واشگاف الفاظ میں پاکستان کی دہشتگردی کی کوششوں کو سراہا ہے،انہوں نے کہا کہامریکہ نے ڈائیلاگ میں ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، فریقین نے بی ایل اے، داعش خراسان، ٹی ٹی پی کے خطرات سے نمٹنے پر زور دیااور جن تنظیموں پر پابندی عائد کی ہے ان کا تعلق بھارت سے ہے اس لیے یہ بھارت کے لیے کھلا پیغام بھی ہے۔
سلیم بخاری نےکہا کہ روایت کے مطابق تحریک انصاف نے احتجاج کی کال دی تھی اور کال واپس بھی لے لی ہے,انہوں نےکہا کہ مذاکرات کے حوالے سے جو بات چل رہی اس میں کچھ حوصلہ افزا نشانیاں ہیں، لگتا ہے کہ اب بانی بھی تنگ آگئے ہیں اور وہ بھی مذاکرات پر آمادہ ہیں، ہوسکتا ہے کہ شاہ محمود اور چند پی ٹی آئی سنجیدہ حلقے بھی مذاکرات کے حق میں بانی کو قائل کرنے کی کوشش کر یں۔
دوسری بات یہ کہ جو لوگ سزا یافتہ ہیں اور نا اہل ہو گئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو ضمنی الیکشن میں ضرور حصہ لینا چاہیے تاکہ وہ اپنے حلقے میں جاکر عوام کو قائل کر سکیں اور مخالف پارٹیوں کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے,یہ ایک بہت معقول بات ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ بانی بھی یہ باور کر اچکے ہیں کہ مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور وہ بھی اب مذاکرات کےحامی ہیں ،اُمید کی جاسکتی ہے کہ اس دفعہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔
پارٹی رہنماوں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ لیکن کسی نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ بانی نے مذاکرات سے انکار کیا ۔انہوں نے پیش گوئی کی چاہے مذاکراتی ٹیم کی قیادت شاہ محمود کریں لیکن بات چیت ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔