بجلی کے بلوں میں سلیپ ٹیرف ریٹ بڑھانے کا طریقہ کار لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف )بجلی کے بلوں میں سلیپ ٹیرف ریٹ بڑھانے کا طریقہ کار لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، عدالت نے نیپرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔
جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیئے کہ نیپرا بتائے کہ سلیب سسٹم کس قانون کے تحت نافذ کیا گیا،جسٹس خالد اسحاق نے سائلہ خاتون اشباء کامران کی درخواست پر سماعت کی ، درخواست میں نیپرا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ آئین اور قانون کیخلاف ہے،200 یونٹس تک بجلی بلز پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہیں،سلیب سسٹم کے تحت بجلی بل دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
سب سڈی حاصل کرنے والے صارفین کو دو سو یونٹ سے زائد بجلی یونٹ استعمال کرنے پر سزا دی جارہی ہے، دو سو سے زائد یونی والے صارفین کو چھ ماہ تک پلنٹی وصول کیا جاتا ہے، یہ نیپرا ایکٹ 1997 کے سیکشن 31 اور آئین کےآرٹیکل 9 اور 25 کی بھی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ایک یونٹ بڑھنے سے نیپرا ہائیسٹ ریٹ پر بل بھیجتا ہے، یہ بھی آرٹیکل چار ، چودہ اور پچیس کہ خلاف ورزی ہے، نیپرا ایک ریگولیٹری ادارے ہے نہ کہ پولسنسنگ کرکے بجلی کے بلوں میں سزاؤں کا مرتکب کرے ،استدعا کی گئی کہ عدالت بجلی کے بلوں میں سلیپ ٹریف ریٹ بڑھانے کا طریقہ کار کالعدم قرار دے۔
یہ بھی پڑھیں :قلعہ گجر سنگھ کے علاقے سےلیڈی پولیس کانسٹیبل مبینہ طور پر اغوا، تلاش جاری