برطانیہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی میں شریک نہیں ہوگا۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا حامی ہے اور اس اہم گزرگاہ کو کھلا رکھنے کی حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ یہ عالمی معیشت کے استحکام اور اندرونِ ملک مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا محصول عائد نہیں ہونا چاہیے، جبکہ برطانیہ فرانس اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک وسیع اتحاد قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت زمین بوس،مارکیٹ میں کھلبلی مچ گئی
یاد رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایسے جہازوں کو بھی روکا جائے گا جو ایران کو محصول ادا کریں گے۔
بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے صدر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آج شام سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق یہ ناکہ بندی آج شام سات بجے سے نافذ ہوگی، جس کا اطلاق عارضی طور پر ان جہازوں پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی آمد و رفت میں شامل ہوں گے۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا دائرہ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں تک محدود ہوگا، جبکہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے درمیان جہاز رانی اس سے متاثر نہیں ہوگی۔