اسرائیل کا ظلم اسلامی ممالک کیلیے خطرے کی گھنٹی ہے، مولانا فضل الرحمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ظلم اسلامی ممالک کیلیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بات مردان میں جے یو آئی کی دستور اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس اجتماع مین جمعیت علما اسلام کے کارکنوں نے بری تعداد میں شرکت کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا، شہباز شریف ، نواز شریف اور زرداری سر جھکا سکتے ہیں مگر مولانا فضل الرحمان نہیں سر نہیں جھکا سکتے ،دستور پاکستان اس ملک میں اسلامی پاکستان کا تقاضا کرتا ہے۔ غیر اسلامی قوانین جو پاس کئے اس کو ہم نہیں مانتے ۔ جس آئین کا وہ حلف لے چکے ہیں وہ اس کا روگردانی کررہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا، تمہارے کردار کی وجہ سے پاکستان ایک دفعہ دولخت ہوچکاہے۔ آپ کے کردار کی وجہ سے دوبارہ پاکستان دولخت ہوگیا تو اس کا ذمہ دار آپ ہوں گے ۔ حکومتی نظام درہم برہم ہے۔ امن کا نظام درہم برہم ہے اور مسلح گروپس آزاد گھوم رہے ہیں۔ مجھے امن اور روزگار نہیں دے سکتے دوسری جانب حکومت بھی چوری کی بنائی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا، : میں اس چوری شدہ حکومت کو نہیں مانتا جو کرسکتے ہو کرلو۔ دھاندلی سے حکومت بنائی اسے کسی صورت نہیں مانتے ۔ جس طرح جعلی نوٹ نہیں چل سکتا اس طرح جعلی حکومت بھی نہیں چل سکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا، اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔دنیا اور اپنی اسٹیبلشمنٹ کو بتانا چاہتا ہوں یہ غیور پاکستانیوں کی اجتماع ہے۔ اگر پاکستان پر کوئی نازک وقت آیا تو یہ نوجوان سرحد پر سیکیورٹی فورسز سے آگے ہوں گے۔
فضل الرحمان نے مزید کہا، پاکستان کے پچیس کروڑ عوام عالمی اور اسلامی برادری میں اہمیت رکھتا ہے۔ آج امریکہ پاکستان کے سر زمین پر امن تلاش کررہا ہے۔ 75 سال سے عالمی قوتوں نے اس وطن کو غلام بنایا رکھا ہے۔ ہم عالمی سطح پر قیادت کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا، آ ج پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے ہم 78 سال سے اس کردار کے متلاشی تھے ۔اس کے ساتھ ہی فضل الرحمان نے الزام لگایا حکمرانوں آپ نے عالمی قوتوں کی ایما پر جو مہنگائی کا طوفان برپا کیا ہے یہ فیصلے واپس لینا ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا، اسرائیل کا خاتمہ امت مسلمہ کی آرزو ہے۔ تین سال سے زائد عرصہ ہوگیا اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ مودی اور یہودی اکھٹے ہوچکے ہیں ۔ اسرائیل اگر ایران تک پہنچ سکتا ہے تو پاکستان تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ مسلمان فاتح ہے اور فاتح رہے گا ۔ یہود اور ہنود کو یکجا نہیں ہونے دیں گے ۔