بھار ت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کا مقصد پاکستان کےامن تباہ کو تباہ کرنا ہے؛سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد) سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی دہشتگرد پراکسیز اور افغان دہشتگردوں نے اسلام آباد کے مرکز میں حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ بھار ت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کا مقصد پاکستان کے کو تباہ کرنا ہےاور اپنے مزموم عزائم کی تکمیل کے لیے پاکستان کو ہر طرح سے بلیڈ کرانا ہے۔
24 نیوز کے پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکے پاکستان کے نہتے شہریوں پر دہشتگرد حملے قابل مذمت ہیں،سلیم بخاری نے نریندر مودی اور اجیت دول کے پاک بھارت جنگ جس میں بھارت کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کے بعد کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو اندر گھس کر ماریں گے،یہ ہے اس بیان کا شاخسانہ اور یہ ہے بھارتی حکومت کی گھٹیا حرکت،اب تو ہمیں کہیں اور ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ان دہشتگردانہ حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اس وقت افغانستا ن بھار ت کے ہاتھوں میں ایک ٹول بنا ہوا ہے،اس ساری کارروائی کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کا امن تباہ کیا جائے اور دوسرا پاکستان کو ڈرایا جائے۔
انہوں نے وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا دہشتگردوں نے افغانستان سےکارروائی کرتے فتنہ الخوارج نے وانا میں معصوم بچوں پر بھی حملہ کیا، بھارتی پشت پناہی اور افغان سرزمین سے جاری حملوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، نہتے و معصوم پاکستانیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
نیتن یاہو غزہ امن کے راہ کی رکاوٹ بن گئے
اس حوالے سے سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ ہم تو نیتن یاہو سے تنگ تو ہیں ہی لیکن جو اسرائیل کے سب سے بڑے الائی ہیں امریکی صدر وہ بھی اب اس سے تنگ آگئے ہیں،ان اختلا فات کی جو وجہ ہے وہ غزہ امن معاہدے کی بہت ساری شقون سے انحراف کر رہا ہے کیوں کہ اس معاہدے کے سب سے بڑے ضامن بھی امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں،یہ وجہ ہے کہ اختلافات میں شدت، امریکا نے غزہ سیزفائر معاہدے کی فیصلہ سازی سےاسرائیل کو باہر کردیاامریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں سیز فائر اور انتظامی فیصلوں پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر میں اسرائیل کو ثانوی حیثیت دے دی ہے اور تمام اہم فیصلے خود کر رہا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل کو تکلیف یہ ہے کہ حماس کے جنگ جو اگر یہاں سے چلے جاتے ہیں تو مستقبل میں وہ ان کے لیے عذاب کا باعث بن سکتے ہیں۔اس لیے نیتن یاہو کی خواہش یہ ہے کہ حماس ہتھیار بھی ہمارے سامنے پھینکے اور ہم اس کا قلع قمع بھی اسی وقت کر دیں لیکن ایسا ہونے نہیں جار ہا۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور کا تھیٹر اصلاحات کی نئی راہ پر