بھارت نے غیر قانونی آپریشن سندور کے تحت پاکستانی شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ،ISSIسیمینار میں شرکاء کا اظہار خیال
بھارت نے غیر قانونی آپریشن سندور کے تحت پاکستانی شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ،آئی ایس ایس سیمینار میں شرکاء کا اظہار خیال
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں سیمینار منعقد ہوا جس کا موضوع تھا "سولین پروٹیکشن ان ملٹی ڈومین کانفلکٹس: لیگل اینڈ ہیومینیٹیرین پرسپیکٹیوز آن آپریشن سندور"۔سیمینار میں محققین، اسکالرز، سابق سفراء اور میڈیا و قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ بھارت نے غیر قانونی آپریشن سندور کے تحت پاکستانی شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جس میں درجنوں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
اس موقع پر شرکاء نے واضح کیا کہ بھارت کی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ عمل انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کو قانونی، سفارتی اور بیانیاتی محاذ پر موثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عالمی برادری بھارت کی جارحیت کو تسلیم کرے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔سیمینار کے اختتام پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے بھارت کے خلاف ایک مضبوط کیس تیار کرنا ہوگا، تاکہ آپریشن سندور جیسے واقعات کو عالمی سطح پر "انسانیت کے خلاف جرم" کے طور پر تسلیم کیا جا سکے۔ماہرین نے آپریشن سندور کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حملے بے گناہ پاکستانی شہریوں کے قتل عام کا باعث بنے،پاکستان کو بھارت کے خلاف عالمی سطح پر قانونی و سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں ،جنیوا کنونشن کی دفعات کی کھلی خلاف ورزی بھارت نے کی،سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شہریوں کا تحفظ عالمی ترجیح ہونا چاہئے۔سیمینار کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو عالمی بیانیہ مضبوط کر کے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنا ہوگا۔؎یہ بھی پڑھیں:اسٹنٹ کمشنر اسلام آباد کو گرفتار کریں،قتل کیس میں پیش نہ ہونے پر سیشن جج محمد افضل مجوکہ برہم