فلمی فنڈ یا آزمائش؟ — حکومت کے دو ارب اور انڈسٹری کی نئی تقسیم

تحریر:زین مدنی حسینی 

Nov 10, 2025 | 22:29:PM
فلمی فنڈ یا آزمائش؟ — حکومت کے دو ارب اور انڈسٹری کی نئی تقسیم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے دو ارب روپے کے خصوصی فنڈ کا اعلان کیا ہے۔یہ اقدام بظاہر فلمی سرگرمیوں کو فروغ دینے، نئی پروڈکشنز شروع کرنے اور سینما کلچر کو بحال کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ دو ارب روپے آخر کس کے حصے میں آئیں گے؟
اعلان کے ساتھ ہی فلم سازوں، ہدایتکاروں اور پروڈیوسرز کی جانب سے درخواستوں کا ایک سیلاب آگیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں صرف موجودہ دور کے سرگرم فلم میکرز ہی نہیں، بلکہ وہ نام بھی شامل ہیں جو بیس پچیس سال سے فلمی منظرنامے سے غائب ہیں۔
بہت سے پرانے ہدایتکار اور فلم ساز جنہوں نے سنگل اسکرین سینما کے دور میں کام کیا، اب ایک بار پھر میدان میں آ گئے ہیں  مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کے جدید فلمی تقاضوں کو وہ سمجھ پائیں گے؟
ذرائع کے مطابق حکومت بھی اب کسی “پرانے تعلق” یا “نام” کی بنیاد پر فنڈ دینے کے حق میں نہیں۔اس مقصد کے لیے ایک نئی فلم پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے، جس کے تحت گزشتہ دس سالوں میں فلم بنانے والے ہدایتکاروں، پروڈیوسرز اور فلم سازوں کے پروجیکٹس، معیار اور بزنس کا ریکارڈ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ حکومت اب صرف وعدوں پر نہیں بلکہ نتائج پر سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے.فلم انڈسٹری اب سنگل اسکرین دور سے بہت آگے جا چکی ہے۔
یہ زمانہ ڈیجیٹل فلم میکنگ، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، ملٹی پلیکس سینما اور عالمی معیار کی مارکیٹنگ کا ہے۔لہٰذا حکومت اگر واقعی فلمی صنعت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے، تو اسے وہی فلم ساز فنڈز دینے ہوں گے جو جدید تکنیک، معیاری مواد اور تجارتی وژن رکھتے ہیں۔
محض پرانے ناموں کو نوازنے سے انڈسٹری کو فائدہ نہیں بلکہ مزید نقصان ہو گا۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسی اعلان کے بعد فلمی برادری میں ایک نیا اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔کچھ سینئر فلم سازوں کا موقف ہے کہ “ہم نے انڈسٹری بنائی، لہٰذا حق ہمارا بنتا ہے”،
جبکہ نوجوان فلم میکرز کا کہنا ہے کہ “ہم نے فلم کو جدید رخ دیا، لہٰذا سرمایہ ہمیں ملنا چاہیے”۔یہ بحث دراصل ماضی اور حال کے فلم سازوں کے وژن کا تصادم ہے۔
حکومتِ پنجاب کے اس اقدام سے امید بندھی ہے کہ شاید پاکستانی فلم ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔
مگر شرط یہ ہے کہ یہ رقم اہل، فعال اور کاروباری لحاظ سے کامیاب فلم سازوں کو دی جائے — نہ کہ ان لوگوں کو جنہوں نے دو دہائیاں پہلے فلمیں بنائیں اور پھر منظر سے غائب ہو گئے۔
فنڈز کی تقسیم شفاف ہوگی تو نتائج مثبت آئیں گے، ورنہ یہ دو ارب بھی ماضی کی طرح “کاغذی فلموں” میں گم ہو جائیں گے۔
پاکستانی فلم انڈسٹری کو صرف پیسہ نہیں، سمت کی ضرورت ہے۔اگر حکومت کی یہ نئی پالیسی درست بنیادوں پر نافذ ہوئی — تو یہ صرف ایک مالی معاونت نہیں بلکہ فلمی بحالی کی شروعات ہوگی۔بشرطِ یہ کہ فیصلہ میرٹ پر ہو، سفارش پر نہیں۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: