قید میں بھوکا رکھ کر مارنے کے مجرم کی سزا عدالت عالیہ نے ختم کر دی

Mar 10, 2026 | 21:17:PM
 قید میں بھوکا رکھ کر مارنے کے مجرم کی سزا عدالت عالیہ نے ختم کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)چکوال میں کروڑوں روپے کی جائیداد کی مالک خاتون کو قید رکھ کر موت کے منہ مین دھکیلنے والے مجرم  کو تین سال قید کی سزا  ہائی کورٹ نے کالعدم کر دی۔ 
 ضلع چکوال میں کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک بہن بھائی کو  قید  میں رکھنے اور طویل  عرصہ تک بھوکا رکھ کر  بہن کو موت کے منہ مین دھکیل دینے والے مجرم کو زیریں عدالت نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سزا ہونے کے بعد مجھرم نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے اور  تین سال قید کی سسزا   کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ میں چیلنج کیا۔ آج ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے  ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کر دیا اور مجرم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملزم کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کا فیصلہ آج (دس مارچ) سنایا ہے۔
 مقدمے کا تفصیلی فیصلہ ابھی جاری نہیں ہوا تاہم مدعی کت وکیل نےبتایا کہ عدالتِ عالیہ نے 'ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی' کی بنیاد پر عنصر عباس کو بری کیا ہے۔
 گذشتہ سال فروری میں چکوال کے تھانہ نیلہ کی پولیس نے نواحی گاؤں گھگھ سے موصول ہونے والے ایک گمنام خط پر کارروائی کرتے ہوئے 26 سالہ لڑکی جبین بی بی کی لاش ایک کمرے سے برآمد کی تھی جبکہ ان کے 32 سالہ بھائی حسن رضا کو  بہت لاغر حالت میں بازیاب کیا تھا۔ مسلسل قید مین رہنے کے سبب بھائی کا ذہنی توازن درست نہیں رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:  جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے لیکن اس ہفتے نہیں، تیل سپلائی روکی تو مزید ماریں گے، ٹرمپ
پولیس کی طرف سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق اس گمنام خط میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کروڑوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کی خاطر دونوں بہن بھائی کو ایک گھر میں بند رکھا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے ڈھائی ماہ قبل اس کیس میں مرکزی ملزم عنصر کو تین سال قیدِ بامشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے ملزم پر اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر روپے رقم کی دیت عائد کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ملزم دیت مرحومہ کے قانونی ورثا کو ادا کرے گا اور دیت ادا نہ کرنے تک ملزم جیل میں ہی رہے گا۔
دونوں بہن بھائی کو بنیادی ضروریاتِ زندگی فراہم نہ کرنے کے الزام میں ملزم کو تین ماہ کی قید اور پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
عدالت نے نو ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا جبکہ مرکزی ملزم عنصر عباس کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر کے جہلم جیل بھیج دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:  مریم نواز نے تمام وزراء کیلئے سرکاری پٹرول بند کر دیا