’غیر قانونی این او سیز ،غفلت پرانکوائری‘سینیٹ میں دریائے سوات سے متعلق تحریک التواء جمع

Jul 10, 2025 | 19:36:PM
’غیر قانونی این او سیز ،غفلت پرانکوائری‘سینیٹ میں دریائے سوات سے متعلق تحریک التواء جمع
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی ) نے ایوان بالا میں دریائے سوات سے متعلق تحریک التوا جمع کرادی جس میں غیر قانونی این او سیز اور ادارہ جاتی غفلت پر شدید تشویش اور انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

 تحریک التواء سینیٹ میں سینیٹر ایمل ولی  کی جانب سے جمع کروایا گیا،تحریک التواء میں موقف اپنایا گیا ہے کہ دریائے سوات، طویل عرصے سے حکومتی عدم توجہی اور بدانتظامی کا شکار ہے،اب تک دریا کی باقاعدہ حدبندی نہیں کی گئی، اور پشتوں کی عدم تعمیر کے باعث ہر سال سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے ،دریا کے اردگرد متعدد غیر قانونی تعمیرات کے لیے این او سیز جاری کیے گئے  جن کی قانونی حیثیت اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 تحریک التواء میں مزید کہا گیا ہے کہ  ان این او سیز کے اجرا کے ذمے دار اداروں، سفارش کنندگان، اور فائدہ اٹھانے والوں کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں،تحریک التواء میں سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ این ڈی ایم اے،پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 نے ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے ہیں؟ کیا کوئی پیشگی وارننگ سسٹم یا ریور مانیٹرنگ نظام موجود ہے؟ اور کیا عوامی آگاہی یا مقامی حکومتوں کے اشتراک سے کوئی مربوط منصوبہ بندی کی گئی ہے؟ 

 تحریک التواء میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دریائے سوات کی قانونی حدبندی اور حفاظتی پشتوں کی عدم تعمیر کی تحقیقات کریں،غیر قانونی این او سیز کے اجرا کی شفاف انکوائری اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں،این ڈی ایم اے،پی ڈی ایم اے اور ریسکو 1122 کی کارکردگی پر ایوان کو بریفنگ اور ثابت شدہ غفلت پر اقدامات کریں،جامع ریور مینجمنٹ پالیسی کی تشکیل جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔ 

تحریک التواء میں مزید  مطالبہ کیا گیا ہے کہ این او سی اجرا کے لیے شفاف اور ماحول دوست پالیسی کا قیام عمل میں لایا جائے،یہ مسئلہ نہ صرف ماحولیاتی تباہی بلکہ انسانی جانوں، ریاستی اعتماد اور وسائل کے ضیاع سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

ایمل ولی خان واضح کیا ہے کہ یہ ایوان کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سنگین معاملے پر سنجیدہ اور بروقت توجہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑی مالکان کیلئے خوشخبری، ٹوکن ٹیکس میں 10  فیصد رعایت