کراچی، ڈمپر نے بہن بھائی کو کچل ڈالا، والد زخمی، مشتعل ہجوم نے 7 ڈمپر جلا دئیے

Aug 10, 2025 | 08:59:AM
کراچی، ڈمپر نے بہن بھائی کو کچل ڈالا، والد زخمی، مشتعل ہجوم نے 7 ڈمپر جلا دئیے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اسامہ ملک،میر کیریو)شہر قائد کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں لکی ون شاپنگ مال کے قریب تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل پر سوار افراد کو کچل دیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں شدید زخمی ہونے والے دونوں بہن بھائی ہسپتال منتقل کیے گئے مگر وہ جانبر نہ ہوسکے، جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے والد زخمی ہوا۔

جاں بحق ہونے والی بہن اور بھائی کی شناخت 22 سالہ ماہ نور دختر شاکر اور 14 سالہ احمد رضا ولد شاکر کے نام سے کرلی گئی ہے، جبکہ زخمی والد کی شناخت شاکر ولد صلاح الدین کے نام سے ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مستونگ: ریلوے ٹریک کے قریب دھماکا، جعفر ایکسپریس کی6بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں ۔

حادثے کے بعد علاقہ میدانِ جنگ بن گیا، عینی شاہدین کے مطابق شہریوں نے ڈمپر ڈرائیوروں کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور قریب کھڑے ڈمپرز پر پتھراؤ کیا اور 7 ڈمپرز کو آگ لگا دی۔

چار ڈمپر کو گلشن چورنگی سہراب گوٹھ جانے والی سڑک پر نذر آتش کیا گیا، جبکہ 3 ڈمپرز کو سہراب گوٹھ سے گلشن چورنگی کی جانب جانے والی شاہراہ پر نذرآتش کیا گیا.

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے اور صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کی۔ فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں بھی طلب کی گئیں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام نے ڈمپرز میں لگی آگ کو بجھا دیا ہے۔

ایس پی گلبرگ اقبال شیخ کے مطابق موٹر سائیکل پر باپ، بیٹا اور بیٹی سوار تھے جنہیں فیڈرل بی ایریا صغیر سینٹر کے قریب ڈمپر نے ٹکر ماری۔

ایس پی کا کہنا تھا کہ ٹکر کے نتیجے میں بیٹا، بیٹی جاں بحق جبکہ ان کا والد زخمی ہو گیا، حادثے کا سبب بننے والے ڈمپر کے ڈرائیور کو عوام نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈرائیور فردوس خان کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ مشتعل افراد نے 7 ڈمپروں کو نذرآتش کر دیا ہے۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے  واقعے میں ملوث 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز کی مدد سے مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں:ملتان: پسند کی شادی کا رنج ،سفاک باپ نے بیٹی، نواسی اور 2نواسوں کو قتل کر ڈالا۔

دوسری جانب آگ لگانے کے خلاف ڈمپر ڈرائیور ایسوسی ایشن نے احتجاج کرتے ہوئے سپرہائی وئے سہراب گوٹھ سے سڑک ٹریفک کیلئے بند کر دی جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے، ڈمپر ڈرائیور ایسوسی ایشن نے نیشنل ہائی وے بھی بلاک  کر دیا۔

دریں اثناءکراچی میں ڈمپرز ایسوسی ایشن کے پولیس کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو گئے نیشنل ہائی وے پر دھرنا ختم کردیا گیا۔سڑک کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا۔پولیس نے ڈمپر ڈرائیور کے بجائے ڈمپر جلانے والوں کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔ ایس ایس پی کاکہنا ہے 15کے قریب ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے

صدر ڈمپر ایسوسی ایشن حاجی لیاقت محسود نےدعویٰ کیا کہ حادثہ ٹینکر کی ٹکر سے ہوا اور مشتعل افراد نے ڈمپر کو آگ لگا دی، 7 ڈمپرز جلانے کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےحادثے میں جاں بحق بائیس سالہ ماہ نور اور چودہ سالہ علی رضا کے چچا ذاکر  نے بتایا کہ بائیس سالہ ماہ نور کی اگلے ماہ شادی تھی، جہیز کے لیے گھر والے ایک ایک پیسہ جوڑ رہے تھے۔

’ہم بچی کا جہیز جمع کر رہے تھے، اور آج ہم اس کے کفن کا بندوبست کر رہے ہیں، کہاں سے لائیں صبر؟ کیسے کریں صبر؟ ہمیں صرف انصاف چاہیے۔‘ ذاکر کی یہ باتیں سننے والوں کا کلیجہ چیر رہی تھیں۔

ذاکر نے بتایا کہ متاثرہ فیملی ملیر سے واپس گھر جارہی تھی، ان کے زخمی بھائی جو کپڑے کا کام کرتے تھے جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں، ان کے دماغ میں شدید چوٹیں آئی ہیں۔