موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج میں اہم پیشرفت، نئی دوا کے حوصلہ افزا نتائج

Jul 08, 2026 | 13:58:PM
موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج میں اہم پیشرفت، نئی دوا کے حوصلہ افزا نتائج
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کیلئے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں نئی دوا HRS-7535 نے کلینیکل آزمائشوں کے آخری مرحلے (فیز تھری) میں کامیاب نتائج دے کر ماہرین کی امیدیں بڑھا دیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی بایوفارما کمپنی Kailera Therapeutics نے بتایا ہے کہ اس کی شراکت دار چینی دوا ساز کمپنی Jiangsu Hengrui Pharmaceuticals کی جانب سے چین میں کیے گئے دو الگ الگ فیز تھری کلینیکل ٹرائلز میں اس دوا نے موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس، دونوں کے علاج میں مؤثر نتائج دکھائے ہیں۔

HRS-7535، جسے اورفورگلیپرون (Orforglipron) بھی کہا جاتا ہے، ایک جدید زبانی (اورل) دوا ہے، جو گولی کی شکل میں تیار کی گئی ہے۔ یہ دوا بھوک کم کرنے، خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے اور جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔

کمپنی کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد پر کیے گئے مطالعے میں 44 ہفتوں کے بعد شرکاء کے جسمانی وزن میں اوسطاً 10.9 فیصد جبکہ 50 ہفتوں کے بعد 11.1 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق اب تک چین میں 2 ہزار سے زائد افراد کو یہ دوا دی جا چکی ہے، جبکہ دونوں مطالعات میں جگر کو نقصان پہنچنے کے کوئی نمایاں شواہد سامنے نہیں آئے، جو دوا کی حفاظت کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ دوا جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونِسٹ (GLP-1 Receptor Agonist) گروپ سے تعلق رکھتی ہے، جو جسم میں بھوک کو کم کرنے، شوگر کو قابو میں رکھنے اور وزن گھٹانے میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔

اس دوا کو چینی کمپنی Jiangsu Hengrui Pharmaceuticals نے تیار کیا ہے جبکہ 2024 میں گریٹر چائنا سے باہر اس کے تجارتی حقوق امریکی کمپنی Kailera Therapeutics کے حوالے کر دیئے گئے تھے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مراحل کی آزمائشوں اور ریگولیٹری منظوری کے دوران بھی یہی مثبت نتائج برقرار رہے تو HRS-7535 موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک مؤثر، محفوظ اور نسبتاً آسان متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔