آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر میزائل کا حملہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک اور بحری جہاز پر آبنائے ہرمز میں میزائل سے حملہ ہو گیا۔ اس حملہ نے ایک بار پھر کشیدگی بڑھا دی ہے۔
ADNOC کا کہنا ہے کہ صورتحال موجود ہے، سرکاری معلومات پر انحصار کرنے پر زور دیتی ہے۔
ابوظہبی میں ADNOC نےاس بات کی تصدیق کی ہے اس کے جہازوں میں سے ایک کو ہفتہ، 8 اگست کی صبح آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔
کمپنی نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہوں یا غیر تصدیق شدہ معلومات کو پھیلانے سے گریز کریں۔
ADNOC ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کا مخفف ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات کی ایک بڑی سرکاری توانائی کمپنی ہے، جس کا مرکز ابوظہبی میں ہے۔
آج آبنائے ہرمز میں جہاز کا نام، اس کا کارگو اور نقصان کی تفصیل ابھی عوامی طور پر واضح نہیں کی گئی۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کو اپنے جہاز پر آج کے میزائل حملے کا ذمہ دار قرار دیا اور اسے IRGC کی طرف سے "قذاقی" قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آج کے حملے کا پس منظر
آج ہفتہ کی صبح آبنائے ہرمز میں امارات کے بحری جہاز پر میزائل حملہ ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز عملاً بند تھی اور صرف چند ہی جہاز ماضی میں بہت مصروف رہنے والی اس آبنائے سے گزر سکے تھے۔
ADNOC نے کل 7 اگست کو بتایا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد اس کے 15 بحری جہاز میزائلوں یا ڈرونز کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان واقعات میں ایک کریو ممبر ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ ADNOC کے مطابق صرف گزشتہ ہفتے میں تین ایسے حملے ہوئے تھے۔
آج کے واقعے کو ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے جہازوں پر ہرمز میں 16واں حملہ شمار کیا جا رہا ہے۔
آج کے حملے کے بعد یہ سوال پھر زیر بحث ہے کہ ایران اگر خلیج میں امریکی یا اسرائیلی اہداف کے بجائے وسیع تر maritime traffic کو خطرے میں ڈالے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے، آج کا واقعہ کے بعد کہا جا رہا ہے کہ خاص طور پر ADNOC کے جہاز اس لیے دلچسپ ہدف ہیں کہ UAE ایران کے ساتھ براہ راست جنگ نہیں کر رہا۔ تہران کا پیغام ان ممالک کے لئے ہے جو ایران کی نظر میں مخالف فریق کی جنگی یا معاشی مدد کر رہے ہیں۔
UAE نے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، مگر ابھی ہمارے پاس عوامی سطح پر یہ تفصیل نہیں کہ میزائل کہاں سے فائر ہوا، کون سا میزائل تھا، جہاز کو کس مقام پر لگا۔
ایرانی فوج نے باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اب تک یہ کنفرم نہیں ہوا کہ آج میزائل حملے کا نشانہ بننے والا ADNOC کا جہاز ہرمز کے کس حصے میں تھا۔ ایران کی جانب سے اس سے پہلے عمان کے ساحل کے قریب روایتی کوریڈور سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کئے گئے تھے۔
آج کل عمان کے ساتھ ایران کے مذاکرات ہو رہے ہیں جن میں ایرانی ھکام کے مطابق امثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ اس دوران امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بند رکھی اور آج ہی ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کئے جانے کا بھی اشارہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران عمان معاہدہ، امریکا نے بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنے کا عندیہ دے دیا