مقتول میر رضا کے قاتلوں تک پہنچنے میں کون طاقت رکاوٹ؟

سچ اور انصاف کی تلاش میں اکثر رکاوٹوں کا سامنا رہا لیکن اس بار تھک چکی ہوں، حد سے زیادہ تھک چکی ہوں، پولیس سرجن کا پبلک کے سامنےاعتراف

Aug 08, 2026 | 17:51:PM
مقتول میر رضا کے قاتلوں تک پہنچنے میں کون طاقت رکاوٹ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) اب یہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ میر رضا قتل کیس میں کوئی طاقت تفتیش پر اثر انداز ہوتی رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم میں بدعنوانی سامنے آ گئی۔ خاتون پولیس سرجن بول پڑیں۔ 
 میر  رضا علی کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے خود کو بے بس قرار دے دیا۔ لیکن انہوں نے کیس پر اثر انداز ہونے والی طاقت کی نشاندہی نہیں کی۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے سوشل پلیٹ فارم  ایکس پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے چونکا دینے والی بات لکھی۔ پولیس سرجن نے لکھا، " کراچی میں میڈیکو لیگل سروسز/پولیس سرجن کی حیثیت سے اپنے 4  سالہ دور ذمہ داری میں، میں نے خود کو کبھی اتنا بے بس محسوس نہیں کیا"۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے مزید لکھا،"  سچ اور انصاف کی تلاش میں مجھے اکثر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا مگر اس بار میں واقعی تھک چکی ہوں، حد سے زیادہ تھک چکی ہوں۔"

پولیس سرجن سمعیہ سید نے میر رضا کیس میں  ایس پی ایسٹ کو خط لکھ کر ڈاکٹر اسامہ شیخ کی بنائی ہوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ اس ہی بنا پر قبر کو کھولنے اور دوبارہ پوسٹمارٹم کی اجازت ملی۔ 

اب ڈاکٹر سمیعہ نے سوشل پلیٹ فارم  پر لکھ کر تصدیق کر دی کہ نوجوان مقتول کے قتل کے مجرموں تک پہنچنے میں کوئی طاقت رکاوٹ بن رہی ہے۔ 

رضا کے والد کی درخواست پر عدالت نے قبر کھول کر مقتول کا دوبارہ پوسٹمارٹم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس مقصد کے لئے جو  میڈیکل بورڈ بنایا گیا اس پر ایک بار پھر  کوئی طاقت اثر انداز ہوئی۔  دوبارہ پوسٹمارٹم کیلئے بنائے گئے  میڈیکل بورڈ پر مقتول رضا کے والد نے اعتراض کر دیا تھا جس کے بعد    قبرکشائی کیلئےعدالتی احکامات پر نیا 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔ اس بورڈ کی نگرانی میں مقتول رضا کی قبر کھولی گئی اور میت سے  مواد کے نمونے حاصل کئے گئے۔ بورڈ کے ارکان نے میت کا مشاہدہ کیا۔ 

قانون کے مطابق مجسٹریٹ کی نگرانی میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹمارٹم کا عمل مکمل کیا گی۔ مقتول کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ لیبارٹری سے مدد  حاصل کرنے کیلئے میت کے مختلف حصوں سے مواد  کے سیمپل لیے گئ۔

میڈیکل بورڈ کے ارکان، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید اورفرانزک ایکسپرٹ شریک ہوئے۔

قبرستان میں پوسٹمارٹم کے دوران مقتول میر رضا کے والد میر حسین، والدہ ،بہن اور وکیل بھی قبرستان میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  میر رضا کی قبر کشائی کا عمل مکمل،دوبارہ تدفین کردی گئی