بھارت کا پاکستان سے پھر سفارتی رابطہ، دریائے ستلج میں سیلاب کا الرٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )بھارت نے پاکستان سے پھر سفارتی سطح پر رابطہ کرتے ہوئے دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کر دیا ، بھارت ستلج میں مزید پانی چھوڑ رہا ہے جس سے ملحقہ اضلاع و دیہات متاثر ہوں گے۔
وزارت آبی وسائل نے متعلقہ اداروں کو انتباہی خط جاری کر دیا، 28 محکموں کو سیلاب کے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق دریاؤں میں شدید سیلابی صورت حال کے باعث صوبے کے 4100 سے زائد موضع جات جبکہ مجموعی طور پر 42 لاکھ 25 ہزار افراد متاثر ہوئے، ان میں سے 20 لاکھ 14 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
اس سے قبل پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد بپھرا ریلا سندھ میں داخل ہوگیا ہے۔ ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
پنجند بیراج پر پانی میں 97 ہزار 706 کیوسک اضافہ ہوا ہے۔ آمد اور اخراج اس وقت 4 لاکھ 46 ہزار 820 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تریموں بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 5 لاکھ 8 ہزار 371 کیوسک ریکارڈ جبکہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 66 ہزار 151 کیوسک ہے۔
ادھر سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 29 ہزار 990 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کوٹری بیراج پر 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 497 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لڑکی بن کر ٹک ٹاک بنانے والا لڑکا گرفتار
پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تریموں بیراج پر گذشتہ 12 گھنٹوں میں 1 لاکھ 12 ہزار 576 کیوسک کا شدید اضافہ ہوا ہے، آمد اور اخراج 4 لاکھ 88 ہزار 169 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پنجند بیراج پر پانی کی آمد اخراج 3 لاکھ 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، گڈو بیراج پر آمد 3 لاکھ 66 ہزار 151 کیوسک اور اخراج 328487 کیوسک رہا، سکھر بیراج پر آمد 3 لاکھ 29 ہزار 990 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 81 ہزار 985 کیوسک رہا جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 452 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 497 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
لیاقت پور میں دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
ذرائع کے مطابق نوروالا شہر کا زمیندارہ بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور اسکول میں داخل ہوگیا ہے جس کے باعث فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں، جس کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔