معرکہ حق میں جامع حکمت عملی اور ہم آہنگی کے ساتھ دشمن کو جواب دیا, عطا اللہ تارڑ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) معرکہ حق میں جامع حکمت عملی اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہر سطح پر دشمن کو بھرپور جواب دیا۔ یہ بات اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے آج اسلام آباد میں معرکہ حق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا، معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت میرے لئے اعزاز کا باعث ہے۔ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ قومی عزم، جذبے اور وژن کی علامت ہے۔
وزیراطلاعات نے کہا، موجودہ دور میں جنگ کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ بیانیے کی جنگ میں حقائق اور سچ اہمیت رکھتے ہیں۔ معرکہ حق سے ہمارا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ ہمارے بیانیے کی فتح ہوئی، قوم حکومت اور اداروں کے ساتھ ہے۔ صحافیوں نے ایل او سی کا دورہ کر کے بھارتی دعووں کو بے نقاب کیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا، پاکستان دہشت گردی کے خؒاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، ہماری قربانیاں دنیا کے امن کے لئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ آج بھی ایک حقیقت ہے، پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریئے پر ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: مفاہمت طے پا گئی, آبنائے ہرمز کھلنے کا امکان
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت نے اپنے اندرونی معاملات سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی۔ پہلگام واقعہ کے فوری بعد ایف آئی آر کا اندراج آج بھی سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان نے مخلصانہ طور پر شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔ بھارت نے آج تک پاکستان کی مخلصانہ پیشکش کا جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا، بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تاریخ رکھتا ہے۔ سات مئی کو بھارت نے جو وار کیا پاکستانی قوم نے اس کا جامع حکمت عملی اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہر سطح پر دشمن کو بھرپور جواب دیا۔ بیانیے کی تشکیل میں سچ کی فتح ہوئی۔
انہوں نے کہا، معرکہ حق میں پاکستانی نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کا بھی اہم کردار ہے۔ پاکستانی میڈیا نے کشیدگی کے دوران ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ بھارتی میڈیا نے حقائق کے برعکس بے بنیاد صحافت کی۔ بھارت نے ہمارے یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کر دی لیکن ہم نے انڈین چینلز پر پابندی نہیں عائد کی۔ انڈیا نے ہمارے یوٹیوب چینل بند کئے اور ہم نے اپنا یوٹیوب چینل ان کے ملک میں چلا کر دکھای۔ بھارت کے شہریوں نے پاکستانی مواد انڈین یوٹیوب چینلز پر چلنے پر اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑی کمپنی الیکٹرک بائیک بنانے کے لئے میدان میں آگئی