پیٹرولیم سٹینڈنگ کمیٹی اجلاس : لیوی بڑھنے پر اراکین میں گرما گرمی، شدید اعتراضات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی لیوی میں مسلسل اضافے کے موضوع پر اراکین کا پارہ ہائی ہو گیا ، وزیر پیٹرولیم کی بریفنگ کے دوران ممبر کمیٹی نوید قمر نے شدید اعتراضات اٹھائے ، ممبر کمیٹی گل اصغر اور وزیر پیٹرولیم کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،چیئرمین کمیٹی نے اجلاس کل تک موخر کر دیا ۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر پیٹرولیم علی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی پٹرول کی ضرورت کا 70 فیصد درآمد کرتا ہے،عالمی مارکیٹ میں ریفائن شدہ مصنوعات اب بھی مہنگی ہیں، خام تیل سستا ہونے سے پٹرول لازمی سستا نہیں ہوتا۔
علی وزیر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اوگرا شفاف فارمولے کے تحت قیمتوں کا تعین کرتی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں Platts بینچ مارک سے منسلک ہیں، جنگ کے دوران انشورنس اور فریٹ اخراجات کئی گنا بڑھ گئے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ بحران کے دوران ملک میں ایک دن بھی ایندھن کی قلت نہیں ہوئی، پٹرولیم لیوی کی رقم وفاقی خزانے میں جاتی ہے، حکومت قیمتوں کے نظام میں مزید شفافیت لا رہی ہے، پیلٹس کی قیمتیں عوام کے لیے جاری کرنے کی تجویز ہے، پٹرولیم سیکٹر میں ڈی ریگولیشن پر کام جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ نجی شعبے میں مسابقت سے ایندھن سستا ہونے کی توقع ہے، ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کابینہ کو بھجوا دی گئی،ریفائننگ صلاحیت بہتر بنانا حکومت کی ترجیح ہے، درآمدی ایندھن پر انحصار کے باعث عالمی قیمتوں کا اثر پڑتا ہے، گیس سیکٹر میں اصلاحات عالمی بینک کے تعاون سے جاری ہیں۔
علی وزیر نے کہا کہ گیس سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کیا جا رہا ہے,گیس کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری جاری ہے،ریفائنری پالیسی پر عملدرآمد حکومت کی ترجیح ہے، بندرگاہوں کی تنظیمِ نو اور گورننس بہتر بنائی جا رہی ہے،توانائی سپلائی تحفظ کے لیے انفراسٹرکچر کی توسیع ناگزیر ہے,بڑے کارگو جہاز لانے کے لیے انفراسٹرکچر محدود ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے،بندرگاہوں پر نائٹ نیویگیشن کی سہولت بھی درکار ہے،توانائی کے تحفظ کے لیے جامع اصلاحات پر کام جاری ہے، گیس سیکٹر میں اصلاحات عالمی بینک کے تعاون سے جاری ہیں،گیس سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کیا جا رہا ہے,گیس کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ریفائنری پالیسی پر عملدرآمد حکومت کی ترجیح ہے،بندرگاہوں کی تنظیمِ نو اور گورننس بہتر بنائی جا رہی ہے،توانائی سپلائی تحفظ کے لیے انفراسٹرکچر کی توسیع ناگزیر ہے,بڑے کارگو جہاز لانے کے لیے انفراسٹرکچر محدود ہے،ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے،بندرگاہوں پر نائٹ نیویگیشن کی سہولت بھی درکار ہے،توانائی کے تحفظ کے لیے جامع اصلاحات پر کام جاری ہے۔
علی وزیر نے کہا کہ اوگرا کو ازسرنو مضبوط اور فعال بنانے کی ضرورت ہے،اوگرا وزارتِ پیٹرولیم نہیں، کابینہ ڈویژن کو رپورٹ کرتی ہے،اوگرا چیئرمین کے تقرر کے لیے اشتہار دیے گئے،اوگرا چیئرمین کے لیے موزوں امیدوار نہیں ملا،اوگرا چیئرمین کی تعیناتی کے لیے ہیڈ ہنٹنگ کی تجویز دی ہے، ضرورت پڑی تو بیرون ملک سے بھی ماہر امیدوار لایا جا سکتا ہے،اوگرا کو مستقل اور کل وقتی چیئرمین کی ضرورت ہے،اوگرا کی قیادت کے معاملے پر وزیراعظم کو سمری بھجوائی جا رہی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ملک کو یورو فائیو معیار کے ایندھن کی طرف لے جا رہے ہیں،ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے،اُمید ہے اگلے اجلاس تک ریفائنری پالیسی منظور ہو جائے گی،پالیسی منظوری کے بعد ریفائنری اپ گریڈیشن کا عمل شروع ہوگا،ریفائنری پالیسی پر ڈی جی آئل تفصیلی بریفنگ دیں گے،ریفائنریوں کی نااہلی کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالیں گے،صارفین پر اضافی مالی بوجھ ختم کرنا وزیراعظم کا فیصلہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بحران کے دوران حکومت نے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے،ایک پمپ پر بھی ایندھن ختم ہوتا تو سنگین صورتحال پیدا ہو سکتی تھی،کئی ممالک میں ایندھن بحران کے دوران فوج تعینات کرنا پڑی،عالمی منڈی میں ریفائن شدہ مصنوعات آج بھی جنگ سے پہلے سے مہنگی ہیں،پاکستان میں پٹرولیم لیوی ختم کر دی جائے تو قیمتیں نمایاں کم ہو جائیں گی،پٹرول پر تقریباً 80 اور ڈیزل پر 70 روپے لیوی وصول کی جا رہی ہے،لیوی ختم کرنے سے حکومتی آمدن کا متبادل بندوبست کرنا ہوگا۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ اخراجات یا تو لیوی سے پورے ہوتے ہیں یا پھر مہنگائی کا بوجھ اُٹھانا پڑتا ہے،عوام کو عالمی قیمتوں اور مقامی قیمتوں کا فرق سمجھانا ضروری ہے،ایل پی جی کی قیمت پروپین اور بیوٹین کے عالمی نرخوں پر مقرر ہوتی ہے،ملک کی صرف 30 سے 40 فیصد ایل پی جی ضرورت مقامی پیداوار سے پوری ہوتی ہے،باقی ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے، قیمت درآمدی لاگت سے جڑی ہے،ایل پی جی کی نیلامی عدالتی حکم امتناع کے باعث رُکی ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایل پی جی کیس پر اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا گیا،عدالت نے معاملہ اوگرا کو دوبارہ جائزے کے لیے بھجوا دیا، ایل پی جی قیمتوں پر عملدرآمد اوگرا کی بنیادی ذمہ داری ہے،اوگرا قیمت مقرر کرتی ہے، نفاذ بھی اسی کی ذمہ داری ہے،ایل پی جی قیمتوں کے نفاذ کے لیے اوگرا کو تحریری ہدایات دی ہیں،وزارت پیٹرولیم کے پاس قیمتوں کے نفاذ کا انتظامی اختیار نہیں،اوگرا کے پاس قیمتوں کے نفاذ کا مکمل نظام موجود ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ایل پی جی فارمولے پر قانونی معاملات کئی برس سے زیر سماعت ہیں،ایل پی جی کیس عدالت میں ہے، اوگرا اپنا مؤقف پیش کرے،ایل پی جی قیمتوں کے نفاذ پر اوگرا سے جواب طلب کیا جائے، اوگرا کا ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کروں گا،اوگرا قیمتوں کے نفاذ پر اپنا مؤقف خود پیش کرے،اوگرا نے کارروائی سے متعلق متعلقہ اداروں کو ہدایات دی ہیں،قیمتوں کے نفاذ کی ذمہ داری اوگرا کی ہے،اوگرا سے اس کی کارروائی کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے۔
ممبر کمیٹی نوید قمر نے اس حوالے سے اعتراضات اُٹھاتے ہوئے بتایا کہ ایل پی جی کی قیمتوں پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا؟اپنی تعین کردہ قیمتوں پر اوگرا عمل درآمد کروانے میں ناکام ہے،پیٹرولیم لیوی بڑھا بڑھا کر 118 روپے تک پہنچا دی ہے،سی ایس آر کے فنڈز کو کنسلٹنٹس پر کیوں خرچ کیا گیا؟یہ ایک مجرمانہ عمل ہے کہ یہ فنڈز دیگر مد میں استعمال کیا گیاہے، جو فنڈ جس مقصد کیلئے ہیں اسی مقصد کیلئے استعمال کیے جانے چاہیں۔
ممبر کمیٹی گل اصغر اور وزیر پیٹرولیم کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ،پارلیمنٹری سیکرٹری میاں خان بگٹی نے بتایا کہ دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے اور ایک ممبر پاکستان کو نیچا دکھا رہے ہیں۔
ممبر کمیٹی گل اصغر نے بتایا کہ ایل پی جی یا گیس کا کہتے ہیں وزیر صاحب مہنگی نہیں ہوئی،آر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں بھی ہوا،ایل پی جی مہنگی نہیں ہوئی، گیس مہنگی نہیں ہوئی ،یہ آر ایل این جی کیا گیس نہیں ،وزیر موصوف غلط رویہ غلط اعدادشمار دے رہے،
اس حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ اوگرا کو بلا کر ان سے پوری بریفننگ لیں گے یہاں ہم کوئی آمنے سامنے بیٹھ کر مقابلہ کروانے نہیں آئے،یہ کمیٹی ہے یہاں ایک مناسب رویہ اور ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھیں،یہاں ٹمپریچر فی الحال بہت ہائی ہے،کمیٹی کو ختم کرتے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے اجلاس کل تک ملتوی کردیا۔
یہ بھی پڑھیں :گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کی نماز جنازہ ادا،فوجی اعزاز کیساتھ سپرد خاک