ایران کے بیلسٹک میزائلوں نے جنگ میں اسرائیل کے 5 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، برطانوی اخبار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) ایران کے بیلسٹک میزائلوں نے گزشتہ ماہ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے 5 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کی رپورٹ میں ہفتے کو پہلی بار اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے حوالے سے یہ بات بتائی گئی ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اڈوں اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کی تفصیلات اسرائیل میں فوجی سنسرشپ قوانین کے تحت شائع ہونے سے روکی جاتی ہیں، کیوں کہ حکام کا ماننا ہے کہ اس قسم کی معلومات ایران کو اپنے میزائلوں کو بہتر طریقے سے ہدف بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
لیکن ’دی ٹیلیگراف‘ کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا اُن میں تل نوف ایئربیس، گلیلوٹ انٹیلیجنس بیس، اور زیپوریت اسلحہ اور بکتر بند گاڑیوں کی تیاری کا مرکز شامل ہیں۔
یہ رپورٹ اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ ریڈار ڈیٹا پر مبنی تھی، جو سیٹلائٹ کے ذریعے جنگی علاقوں میں بمباری کے اثرات کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طاقتور ترین بیٹری، ایپل نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنا دی
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ کے دوران، جو اسرائیل نے 13 جون کو ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے شروع کی، اسرائیل میں واقع 5 فوجی اڈوں پر کل 6 میزائل گرے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے 36 دیگر میزائل بھی اسرائیل کے اندر گرے، جو اسرائیل اور امریکا کے فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلے، ان حملوں میں 28 افراد ہلاک ہوئے، 2 ہزار 305 گھروں کو نقصان پہنچا، 240 عمارتوں، 2 جامعات اور ایک ہسپتال کو نقصان پہنچا، جب کہ 13 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
مجموعی طور پر ایران نے 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے، اس کے ساتھ ساتھ، ایران نے تقریباً ایک ہزار 100 ڈرون بھیجے، جن میں سے صرف ایک ہی اسرائیل میں گرا۔
اگرچہ مجموعی طور پر فضائی دفاعی نظام کی کامیابی کی شرح بلند رہی، رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی 8 دنوں میں ہر دن گزرنے کے ساتھ ان میزائلوں کی تعداد بڑھتی گئی، جو دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔