آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران کو کردار مل گیا؟ عمان ایران مذاکرات پر رائٹرز کی رپورٹ

Aug 06, 2026 | 20:41:PM
 آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران کو کردار مل گیا؟ عمان ایران مذاکرات پر رائٹرز کی رپورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز اور کمرشل بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جاری مذاکرات تقریباً طے پاگئے ہیں۔

ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ  عمان کے ساتھ ایران کے مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں بحری  جہازوں کی محفوظ آمدو رفت کے لیے  دونوں ملکوں  کی جغرافیائی حدود  پر اتفاق ہوگیا اور آج  ان کے معاہدہ کی دیگر تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔

معاہدے کی اہم شقیں

برٹش نیوز ایجنسی رائٹرز نے ایرانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عمان نے اتفاق کیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظام میں ایران کا نمایاں کردار  ہوگا۔

 رائٹرز کے مطابق ایک "سینئر ایرانی ذریعے"  اور دو علاقائی حکام نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کے روٹ پر تہران کو عملی نگرانی حاصل ہو سکتی ہے جسے ایران کے لیے اب تک کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی  ذرائع نے رائٹزر کو مزید بتایا کہ البتہ بعض اہم معاملات جیسے جہازوں کی واپسی، ان کے معائنے اور ممکنہ ٹول فیس ابھی زیرِ بحث ہیں۔ جس پر اتفاق کے بعد ہی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کیا بتا رہی ہیں؟

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک نے نئے بحری راستے کے جغرافیائی نقاط (Coordinates) پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کا مطلب آبنائے ہرمز کا فوری یا خودکار طور پر مکمل کھلنا نہیں ہے، کیونکہ اس کا انحصار امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر ہے۔ 
جہاں تک ایران کی طرف سے ٹریفک کو ریگولیٹ کرنے کا تعلق ہے، تو جی ہاں، اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والی ٹریفک کو مانیٹر اور ریگولیٹ کرے گا۔ یہ گزشتہ 60 سالہ روایتی طریقہ کار سے بالکل مختلف ایک نیا سیکیورٹی ماڈل ہوگا۔

آمد اور روانگی کے الگ راستے: آمد ایرانی کوریڈور ست،روانگی عمانی کوریڈور سے؛  آبنائے ہرمز میں ٹریفک ریگولیشن کے نئے انتظام  کی تفصیلات

نئے مجوزہ فریم ورک کے تحت بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا کوریڈور بنایا جائے گا۔ خلیج فارس میں داخل ہونے والے تمام تجارتی جہاز ایران کے زیرِ انتظام راستے سے گزریں گے، جبکہ واپسی (باہر جانے والے) جہاز عمان کے زیرِ انتظام راستے کا استعمال کریں گے۔


سروس فیس کی وصولی

 ایران اور عمان بحری خدمات، سیکیورٹی کی فراہمی اور سمندری ماحول کے تحفظ کے عوض مشترکہ طور پر تجارتی جہازوں سے "سروس فیس" وصول کریں گے، جسے دونوں ممالک میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔عالمی بحری اداروں نے اس فیس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ فیس 28 فروری سے پہلے مقرر نہیں تھی۔ اس سے صارفین کے لیے فیول اور دیگر تجارتی سامان کی لاگت بڑھے گی۔


عمان ایران مشترکہ کوآرڈینیشن 

 آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو مانیٹر کرنے اور جہازوں سے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ایک مشترکہ انتظامی مرکز قائم کرنے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ 

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنے اثر و رسوخ اور کنٹرول کو قانونی شکل دے رہا ہے۔
ایران کا موقف یہ ہے کہ یہ ایک عارضی سیکیورٹی ماڈل ہے جس کا مقصد خطے میں بحری تصادم اور تنازعات کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ ایران کا  اصرار ہے کہ جنگ (امریکہ-اسرائیل کشیدگی) نے خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال بدل دی ہے۔  اس لیے  28 فروری سے پہلے کی طرح  بین الاقوامی قوانین کے تحت آبنائے پہرمز سے  جہازوں کو آزادانہ گزرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بلکہ ٹریفک کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہے۔ 


امریکہ اور دیگر فریقین کا ردِعمل

 امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکام نے عمان اور ایران کے مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے تیل کی عالمی ترسیل بحال ہو سکے گی۔ اس ردعمل کی وجہ سے مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں۔ تاہم، امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے مستقل متبادل کو تسلیم نہیں کریں گے جو آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی قوانین کے برعکس ایران کو یکطرفہ کنٹرول یا ٹریفک روکنے کا اختیار دے۔

جون سے اب تک ہونے والی پیشرفت

 آبنائے ہرمز سے متعلق جون 2026 سے عمان  اور  ایران کے درمیان مذاکرات وقتاً فوقتاً ہوتے رہے۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل، بحری خدمات اور انتظامی امور پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو دیگر خلیجی ساحلی ممالک سے بھی مشاورت کرے گا۔

 جولائی کے آخر میں عمان نے ایران کے سامنے ایک علاقائی انتظامی نظام کی تجویز رکھی جس کی بنیاد آبنائے ملاکا کے ماڈل پر تھی۔ اس تجویز میں ایران کو آبنائے ہرمز کا کنٹرول دینے کے بجائے مشترکہ انتظام، "رضاکارانہ فیس" اور علاقائی تعاون کی بات کی گئی تھی۔ 

امریکہ ایران مذاکرات پر  عمان ایران مذاکرات کا کیا اثر پڑے گا؟

ایران اور عمان کے درمیان یہ مفاہمت امریکی ایرانی مذاکرات کا  ہی حصہ ہے۔ اس کا مقصد  آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولنا  اور آبنائے ہرمز میں ایرانی مداخلت کا خاتمہ کر کے  28 فروری سے پہلے والی آزادانہ آمد و رفت کو بحال کرنا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  گزشتہ روز امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ  معاہدے کا اعلان جلد ممکن ہے تاہم مذاکرات سے واقف ذرائع نے کہا ہے کہ ابھی کئی اہم نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے اس لیے فوری حتمی معاہدے کی توقع قبل از وقت ہوگی۔

 آبنائے ہرمز  تیل اور گیس کی ترسیل کے حوالے سے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کو 20 فیصد تیل اور گیس کی مقدار گزرتی ہے۔28 فروری کو امریکہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے اہم سمندری راستے سے بحری جہازوں کی آمدورفت عملاً بند رہی ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں امریک ہاور ایران کا جنگ بندی کا میمورنڈم سائن ہو جانے کے بعد بھی اس آبنائے سے آمدورفت بحال ہونے میں پیچیدگیاں حائل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کے بہت بڑے صحافی کو ریپ کے جرم میں دس سال قید کی سزا