بھارت کے بہت بڑے صحافی کو ریپ کے جرم میں دس سال قید کی سزا

Aug 06, 2026 | 19:13:PM
بھارت کے بہت بڑے صحافی کو ریپ کے جرم میں دس سال قید کی سزا
کیپشن: ترون تیج پال، ریپ کا الزام لگنے سے پہلے بھارت کی صحافت کا سپر ہیرو تھا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) صحافت کی دنیا میں بہترین سمجھے جانے والے  صحافی نے بدترین حرکت کی، عدالتوں نے تیرہ سال لگائے لیکن آج ریپ کی وکٹم کو انصاف مل گیا۔ بہت بڑے صحافتی ادارہ کا ایڈیٹر  اپنی ماتحت خاتون کے ریپ کا مجرم قرار پا گیا۔ عدالت نے دس سال قید کی سزا  سنا دی۔ ’لڑکی نے حق کے لیے آواز بلند کی اور خواتین کے لئے  لینڈ مارک کامیابی حاصل کر لی۔ 
بھارت کی بمبئی ہائی کورٹ کے گوا بینچ نے آج اپنے لینڈ مارک فیصلہ میں بڑی بڑی خبریں شائع کر کے شہرت حاصل کرنے والے صحافتی ادارہ تہلکہ کے ایڈیٹر  کو اپنی جونئیر جرنلسٹ کو ریپ کرنے کے جرم میں دس سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔فرانس کی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق63  سالہ ترون تیج پال، جو تہلکہ میگزین کے بانی اور سابق ایڈیٹر ہیں، پر الزام تھا کہ انہوں نے نومبر 2013 میں گوا کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کی لفٹ میں ایک خاتون صحافی کو ریپ کیا۔

بمبئی ہائی کورٹ نے آج اپنے اس فیصلے میں 2021 میں گوا کی سیشن عدالت کے مجرم کو بری کر دینے کے فیصلے کو کالعدم کر دیا۔

عدالت نے  تہلکہ کے ایڈیٹر تیج پال کو گرفتاری پیش کرنے کے لئے دو ہفتے کی مہلت دی ہے۔ تیج پال نے  2013 میں اپنی ماتحت جرنلسٹ خاتون کو ریپ کیا تھا اور اب تک آزاد پھر رہا تھا۔


یہ کیس کیا تھا؟
تہلکہ میگزین کے ایڈیٹر تیج پال بھارت کے ایک سینئیر صحافی ہیں جن کی عمر  63 سال ہے۔ تیج پال پر آج یہ الزام ثابت ہوا ہے کہ انہوں نے نومبر 2013 میں گوا کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک تقریب کے دوران، اپنی ماتحت جونئیر جرنلسٹ خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
تہلکہ کی ایک جونیئر خاتون صحافی نے الزام لگایا کہ ایڈیٹر تیج پال نے دو مواقع پر ہوٹل کی لفٹ میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ تیج پال نے شروع سے ان الزامات کی تردید کی اور الٹا خاتون کو شرمندہ کرنے والا الزام لگایا کہ یہ تعلق رضامندی پر مبنی تھا  اور یہ مقدمہ غلط بنیادوں پر قائم کیا گیا۔
تیج پال 2021 میں بری کیوں ہوئے تھے؟
گوا  ضلع کی سیشن عدالت نے تیج پال کو  2021 میں بری کر دیا تھا۔

سیشن کورٹ کے اس فیصلے پر شدید تنقید ہوئی کیونکہ عدالت نے تیج پال کی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون  جرنلسٹ کے طرزِ عمل، بعد کی گفتگو اور دیگر پہلوؤں کو اس انداز سے پرکھا جسے  عورتوں کے حقوق کے کارکنوں اور عوام نے اور بعد میں ریاستی حکومت نے بھی غیر مناسب قرار دیا۔ گوا  کی حکومت نے  تیج پال کو ریپ کے الزام سے بری کرنے کے عدالتی فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی۔

بمبئی ہائی کورٹ نے کیا کہا؟
بآج سامنے آنے والے فیصلہ میں بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے گواسیشن کورٹ کے بریت  کے فیصلہ کو غلط قرار دیا اور  اس فیصلہ کے خلاف ریاست کی اپیل منظور کی۔
 ہائی کورٹ نے تیج پال کو مجرم قرار دے کر 10 سال قید کی سزا سنائی۔


اس کیس کی خاص اہمیت کیا ہے؟
یہ صرف ایک فوجداری مقدمہ نہیں تھا۔  سینئیر جرنلسٹ تیج پال کو بھارت میں تحقیقی صحافت (Investigative Journalism) کے نمایاں  صحافیوں میں شمار کیا جاتا  ہے۔ ان کے قائم کردہ جریدے تہلکہ (Tehelka) نے  بھارت میں دفاعی  سامان کی خریداری کے سودوں میں رشوت ستانی، بڑے سیاستدانوں کی بدعنوانی، اور کرپشن کے کئی بڑے "سٹنگ آپریشن" کئے اور تہلکہ برپا کر دینے والی خبریں شائع کر کے بہت شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ 
مسلسل  بڑی خبریں شائع کر کے تہلکہ نے بھارتی صحافت میں ایک منفرد مقام حاصل کیا تھا۔ 2013 میں جب اس بہت مقبول صحافتی ادارہ کے مقبول صحافی اور ایڈیٹر پر ساتھی خاتون کے ریپ کا الزام لگا تو یہ بھی ایک تہلکہ برپا کرنے والی ہی خبر تھی۔ اس واقعہ نے  نہ صرف قانونی بلکہ صحافتی اور اخلاقی سطح پر بھی عورتوں کے استحصال کی تلخ حقیقت اور  طاقت ور ترین لوگوں کے احتساب سے جڑے مسائل پر شدید بحث چھیڑ دی۔

عدالتی نظام میں موجود گنجائشوں کے سبب تیج پال جرم کرنے کے  بعد   صرف سات ماہ قید رہے۔ مقدمہدرج ہونے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا اور سات ماہ جیل میں رکھا گیا،  لیکن سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست قبول کر کے رہائی دی۔ سینئیر صحافی تیج پال 13 سال تک سزا سے بچے رہے لیکن آج ان کے لئے نظام میں موجود گنجائش آخر تمام ہو گئی۔ اب انہیں دو ہفتوں میں گرفتاری پیش کرنا ہے اور دس سال قید کی سزا کاٹنا ہے۔ 

 
ملازمت پیشہ خواتین کیلئے لینڈ مارک فیصلہ
گوا پولیس کی تحقیقاتی افسر سنیتا ساونت نے فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’ملزم کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جہاں ایک لڑکی نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، اس لیے یہ فیصلہ ان تمام خواتین کے لیے بہت اہم ہے جو کسی بھی شعبے میں کام کر رہی ہیں۔‘
مجرم  تیج پال نے الزامات کی اب بھی تردید کی ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف  سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔
یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب انڈیا میں جنسی زیادتی کے مقدمات کے حوالے سے حکومتی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں تھی، خاص طور پر دسمبر 2012 میں نئی دہلی کی بس میں 23 سالہ طالبہ کے اجتماعی ریپ اور قتل کے بعد۔ اس واقعے نے ملک گیر احتجاج اور عالمی سطح پر غم و غصہ کو جنم دیا اور حکومت کو ریپ قوانین سخت کرنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن جو کچھ بھی کیا گیا وہ وقتی تھا۔ تیج پال کے کیس میں وکٹم کو انصاف حاصل کرنے کے لئے 13 سال تک صبر کرنا پڑا۔
تیج پال کا مقدمہ تہلکہ میگزین کی ساکھ اور اعتبار کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوا، کیونکہ یہ میگزین تاریخی طور پر خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کا بھی علمبردار رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  1400 یورو ماہانہ وظیفہ؛جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلباکیلئےسنہری موقع