کربلا،وہ معرکہ جہاں حق جیتا ظلم ہارا

محمد طیب زاہر

Jul 05, 2025 | 18:07:PM
کربلا،وہ معرکہ جہاں حق جیتا ظلم ہارا
کیپشن: کربلا،وہ معرکہ جہاں حق جیتا ظلم ہارا
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جب کربلا کی تپتی ریت پر امام حسینؑ نے مظلومیت کا علم بلند کیا تو وقت رک سا گیا، زمین کانپ اُٹھی، آسمان رو پڑا، یہ کوئی معمولی قربانی نہ تھی،یہ حق و باطل کی پہچان تھی، انسانیت کی معراج تھی۔

امام حسینؑ نے سر کٹوا کر بھی سر بلند رکھا اور یزیدیت کو ہمیشہ کے لیے رسوا کر دیا،اِن کے ایک ایک قدم میں وفا تھی،ان کی ہر دعا میں امت کی فلاح تھی،وہ صرف نواسۂ رسول نہ تھے،وہ حریت کا علمبردار، صبر کا پہاڑ تھے جس کی روشنی قیامت تک پھیلتی رہے گی۔

محرم کی 9ویں شب،یعنی شبِ عاشور کو کربلا کے میدان میں وہ عظیم رات  جو صبر، وفا، عبادت، اور قربانی کی معراج بن کر رہتی دنیا کے لیے مشعلِ راہ بنی، 9 محرم 61 ہجری کی شام جیسے ہی سورج غروب ہوا، کربلا کی فضا پر ایک سنّاٹا چھا گیا  لیکن اس سنّاٹے میں ایمان کی روشنی اور شہادت کی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔

دشمن کی افواج پوری تیاری کے ساتھ اطراف میں موجود تھیں اور یزیدی سپہ سالار عمر بن سعد نے اعلان کر دیا تھا کہ کل یعنی 10 محرم کو امام حسینؑ اور اُن کے ساتھیوں پر آخری حملہ کیا جائے گا، اس اعلان کے بعد امام عالی مقام نے اپنے بھائی حضرت عباسؑ کو دشمن کی طرف بھیجا تاکہ ایک رات کی مہلت حاصل کی جا سکے،امام عالی مقام  نے فرمایا مجھے عبادتِ الٰہی بہت محبوب ہے، میں چاہتا ہوں کہ کل کے معرکے سے پہلے ایک شب اور عبادت کر سکوں،عمر بن سعد نے تھوڑی تردد کے بعد یہ مہلت دے دی،یہی مہلت، شب عاشور کے طور پر تاریخ میں رقم ہو گئی،اِس رات امام عالی مقام نے اپنے تمام جاں نثاروں  کو جمع کیا اور ایک بار پھر ان سے خطاب فرمایا، آپؑ نے فرمایا دشمن صرف مجھے چاہتا ہے، تم میں سے جو جانا چاہے، وہ جا سکتا ہے  لیکن اس بات پر ایک بھی شخص خیمے سے باہر نہ نکلا بلکہ سب نے اپنی وفاداری، عشق، اور جانثاری کا یقین دلایا  یعنی شب عاشور کی فضا ایک خاص روحانی کیفیت سے بھرپور تھی، امام عالی مقام اور ان کے جاں نثاروں نے ساری رات نماز، دعا، تلاوتِ قرآن، اور مناجات میں گزاری، ہر خیمے سے اللہ اکبر اور سبحان اللہ کی آوازیں آ رہی تھیں،حضرت زینبؑ اپنے خیمے میں دعاؤں میں مشغول تھیں اور بچوں کو تسلی دے رہی تھیں،حضرت علی اکبرؑ، امام عالی مقام کے نوجوان بیٹے، بار بار امام سے شہادت کی اجازت مانگتے اور سجدوں میں گرجاتے،حضرت قاسم بن حسنؑ نے بھی اس رات اپنے چچا امام حسینؑ سے کہا کہ وہ بھی میدان میں جان کی بازی لگائیں گے،حضرت عباسؑ اور کچھ اصحاب خندق کے اردگرد پہرہ دے رہے تھے کیونکہ امام عالی مقام  نے حکم دیا تھا کہ دشمن رات کی تاریکی میں حملہ نہ کر سکے  لہٰذا خیموں کے اطراف میں ایک خندق کھدوائی گئی تھی جس میں لکڑیاں اور جھاڑیاں رکھی گئی تھیں تاکہ اگر دشمن حملہ کرے تو آگ لگا کر راستہ بند کیا جا سکے،اس دوران حضرت عباسؑ دشمن کے لشکر کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے رہے،امام حسینؑ بار بار خیموں میں جا کر بچوں کو سینے سے لگاتے  ُانہیں تسلی دیتے اور دعائیں دیتے۔

حضرت سکینہؑ امامؑ کے سینے سے لگی ہوئی تھیں اور پوچھتی تھیں بابا کیا کل ہم پانی پئیں گے؟" امام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے لیکن لبوں پر مسکراہٹ ہوتی اور وہ کہتے سکینہ صبر کرو  اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے،شب عاشور کی ایک اور اہم روحانی جھلک یہ تھی کہ امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کی روحانی کیفیت کو بلند کرتے ہوئے ان سب کو شہادت کی بشارت دی،اُنہوں نے فرمایا کہ "کل تم سب جنت کے مہمان بنو گے،سب اِس پر خدا کہ شکرگزار تھے کہ اُنہیں امامِ وقت کے ساتھ شہادت نصیب ہو رہی ہے،اس رات حضرت زینبؑ اور امام حسینؑ کے درمیان ایک خاص مکالمہ بھی ہوا،حضرت زینبؑ نے بھائی سے پوچھا کہ کل کیا ہوگا؟ امام نے فرمایا زینب کل میرے جاں نثار اور میرے اہل بیتؑ ایک ایک کر کے شہید ہوں گے، میں بھی شہید ہو جاؤں گا اور تمہیں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی ہوں گی۔

حضرت زینبؑ نے یہ سن کر اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے اور کہا  اگر دینِ اسلام ، امام عالی مقام کی شہادت سے بچتا ہے تو یہی ٹھیک ہے،شب عاشور کا ایک اور ناقابلِ فراموش لمحہ وہ تھا جب امام حسینؑ نے اپنی تلوار، زرہ، اور عمامہ تیار کیا  اور اُنہوں نے اپنے گھوڑے ذوالجناح کو سراہا اور کہا کل تم بھی میرے ساتھ وفا کرو گے،ہر طرف صبر، رضا، یقین اور تسلیم کا ماحول تھا،کوئی شکوہ، کوئی گھبراہٹ نہ تھی،سب کو معلوم تھا کہ کل وہ آخری معرکہ ہوگا لیکن ان کے دلوں میں خوف کی جگہ یقین، عشق، اور حق کی روشنی تھی،شب عاشور کا منظر تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں انسانیت کی معراج، حق و باطل کا فرق، اور قربانی کا اعلیٰ ترین نمونہ ملتا ہے۔

امام حسینؑ اور اُن کے ساتھیوں نے اُس رات یہ ثابت کر دیا کہ اگر نیت خالص ہو، ایمان مضبوط ہو، اور مقصد حق ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت نہ خوف پیدا کر سکتی ہے، نہ ہرا سکتی ہے، یہی شب ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اندھیرے جتنے بھی گہرے ہوں، حق کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا،پھر 10 محرم، یومِ عاشور تاریخِ انسانیت کا وہ دن آیا جب کربلا کی زمین پر امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں نے تاریخی قربانی دی، جب نہ صرف نواسۂ رسولؐ نے اپنا سب کچھ راہِ خدا میں قربان کیا بلکہ حق اور باطل کے درمیان لکیر ہمیشہ کے لیے واضح کر دی، 10 محرم 61 ہجری کی صبح طلوع ہوئی تو کربلا کا منظر کچھ اور ہی تھا، خیموں میں سجدے، دعا اور قرآن کی تلاوت ہو رہی تھی  جبکہ دشمن کے لشکر میں ہتھیاروں کی جھنکار اور جنگ کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں،امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی اور پھر اُنہیں جنگ کی اجازت دے دی۔

اِس اجازت کے  بعد امام حسینؑ کے ایک ایک جانثار جس میں قبیلوں کے سردار، جوان، بزرگ، غلام، اور حتیٰ کہ نوعمر بچے بھی شامل تھے، میدان میں اُترے،حضرت مسلم بن عوسجہ، حضرت حبیب بن مظاہر، حضرت زہیر بن قین، حضرت نافع بن ہلال اور دیگر کئی جلیل القدر صحابہ نے دشمن کی صفوں میں ہلچل مچا دی،انہوں نے شہادت کو گلے لگایا مگر امام کو تنہا نہ چھوڑا،امام حسینؑ ہر شہید کو خیمے کے قریب لا کر خود دفناتے یا حضرت زینبؑ کے سپرد کرتے،ہر بار جب کوئی لڑتے ہوئے شہید ہوتا تو اہلِ بیتؑ کے خیمے میں آہ و بکا کی لہر دوڑ جاتی لیکن ساتھ ہی صبر اور تسلیم کرنے کی کیفیت بھی نظر آتی۔

امام حسینؑ کے خاندان کے نوجوان  جیسے حضرت علی اکبرؑ، حضرت قاسمؑ (بیٹے حضرت حسنؑ )، حضرت عون و محمد (بی بی زینبؑ کے بیٹے)  نے بھی بے مثال شجاعت دکھائی، حضرت علی اکبرؑ جب میدان میں گئے تو امام عالی مقام نے فرمایا خدایا اس نوجوان پر گواہ رہنا  جو تیرے رسولؐ کا سب سے زیادہ مشابہ ہے، جب علی اکبرؑ شہید ہو کر گرے تو امام نے دوڑ کر اُنہیں اُٹھایا اور فرمایا میرے جوان بیٹے تیری جدائی نے میری کمر توڑ دی ہے۔

10 محرم کا سب سے اندوہناک لمحہ وہ تھا جب حضرت عباسؑ جو علمدارِ کربلا تھے، پانی لانے کے لیے فرات کی طرف گئے، دشمن نے ان کے دونوں بازو قلم کر دیےلیکن وہ مشک کو دانتوں سے تھامے امامؑ کے خیمے کی طرف بڑھتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہو گئے، امام حسینؑ نے اُنہیں بنی ہاشم کا شیر کہا اور اُن کی شہادت پر فرمایا،میرے بازو ٹوٹ گئے، حضرت عباسؑ کی شہادت کے بعد امام کے خیمے کا علم زمین پر آ گیا اور بچے پیاس سے تڑپنے لگے،اس کے بعد امام حسینؑ نے ایک ایک کر کے سب اہلِ بیت کو میدان بھیجا حتیٰ کہ آخر میں امام خود تنہا رہ گئے۔

امام حسینؑ نے ذوالجناح پر سوار ہو کر دشمن کے سامنے خطبہ دیا  اور فرمایا،اگر تم مجھے قتل کرتے ہو تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نواسۂ رسولؐ ہوں؟لیکن یزیدی فوج نے اس بات کو نظرانداز کر دیا،امام حسینؑ نے دشمن کے خلاف بھرپور جہاد کیا اور کئی نامور یزیدیوں کو جہنم واصل  کیا لیکن تعداد میں بھاری دشمن نے آخرکار چاروں طرف سے حملہ کر دیا،ایک ظالم نے تیر مارا، دوسرے نے نیزہ چلایا، تیسرے نے تلوار کا وار کیا، امام کے جسم پر 33 نیزے، 34 تلواروں کے زخم اور بے شمار تیروں کے نشان تھے۔آخرکار شمر بن ذی الجوشن نامی بدبخت نے امام کے گلے پر بیٹھ کر اُنہیں شہید کر دیا، امام کا سر نیزے پر بلند کیا گیا اور ان کے جسمِ پاک کو گھوڑوں کے سموں تلے پامال کیا گیا۔امام کی شہادت کے بعد یزیدی فوج نے خیموں کو آگ لگا دی،خواتین کو قیدی بنا کر اونٹوں پر بٹھایا گیا اور بچوں کو کوڑے مارے گئے، امام حسینؑ کی بیٹی سکینہؑ اپنے بابا کی میت سے لپٹ گئی تھی جنہیں زبردستی الگ کیا گیا۔

شہادتِ امام حسینؑ نے رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا نام ہی حسینیت ہے،عاشور کا دن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر حق پر ہو، تو خواہ سب کچھ قربان ہو جائے لیکن ظلم کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے،امام عالی مقام نے دینِ محمدیؐ کو بچا لیا  اور یزید کا چہرہ تاریخ میں سیاہ کر دیا،یومِ عاشور کربلا کی سرزمین پر انسانیت، قربانی، عدل، صبر، اور وفا کا ایسا نقش چھوڑ گیا جو وقت کے ہر ظالم حکمران کے لیے ایک چیلنج اور ہر حق پرست انسان کے لیے ایک مثال بن گیا۔  

عاشور کے دن کی ہر گھڑی ہمیں اپنی جان، مال اور نفس کو خدا کی رضا کے لیے قربان کرنے کا حوصلہ دیتی ہے، کربلا صرف ایک مقام نہیں بلکہ ہر دل میں بسنے والا وہ پیغام ہے جو ظالم کے سامنے "نہیں" کہنے کی ہمت دیتا ہے،کربلا میں صرف تلواریں نہیں چلیں، وہاں روحوں کا جہاد تھا، امام حسینؑ کے ساتھی وہ تھے جو دنیاوی طاقتوں کے سامنے جھکے نہیں  بلکہ سر دے کر سرخرو ہوئے،حضرت امام عالی مقام نے ظلم کو طاقت سے نہیں  بلکہ سچائی اور قربانی سے شکست دی، اُنہوں نے دکھایا کہ باطل چاہے جتنا طاقتور کیوں نہ ہو  اگر حق والے ثابت قدم ہوں تو وہ باطل کو شکست دے سکتے ہیں، امام عالی مقام  کی شہادت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ صرف اپنے خاندان  کی قربانی نہیں دے رہے تھے بلکہ وہ دینِ اسلام کی اصل روح کو بچا رہے تھےجسے یزید جیسے حکمران مٹا دینا چاہتے تھے،یوم عاشور کے بعد جب قافلہ اہلِ حرم قید ہو کر کوفہ اور شام لے جایا گیاتو حضرت زینب  نے اسیر ہو کر بھی پیغامِ کربلا کو زندہ رکھا،شام کے دربار میں حضرت زینبؑ کا تاریخی خطبہ  جہاں انہوں نے یزید کو للکارا، تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے بتایا کہ حسینؑ کا مشن شہادت کے بعد بھی جاری رہا،حضرت زینبؑ نے فرمایا،اے یزید تو یہ سمجھتا ہے کہ تُو نے ہمیں شکست دی؟ نہیں، ہم نے حق کے پرچم کو سربلند کیا ہے  اور تُو تاریخ کے اندھیروں میں دفن ہو چکا ہے،کربلا کا پیغام یہ بھی ہے کہ صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین اور بچے بھی اس جدوجہد کا حصہ تھے،حضرت سکینہؑ کی پیاس، حضرت زینبؑ کا صبر اور قیدیوں کا کردار سب نے اس پیغام کو مکمل کیا،کربلا کا یہ واقعہ  ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حق کے لیے جدوجہد کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے،ان کا خون تاریخ کی بنیادوں میں جذب ہو کر نسلوں کو روشنی دیتا ہے، امام حسینؑ نے وقت کے فرعون کو للکارا اور ہمیں سکھا دیا کہ سر کٹ سکتا ہے مگر جھکایا نہیں جا سکتا۔

یہ  بھی پڑھیں: حضرت داتا گنج بخش  رحمتہ اللہ علیہ کے مزار شریف پر غسل مبارک کی تقریب ، اسحاق ڈار کی شرکت