نورِ سحر میں "سورہ یٰس کے تفسیری معارف اور فضائل و برکات " کے موضوع پر روح پرور اور علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ قرآنِ مجید کے تین بنیادی عقائدتوحید، رسالت اور آخرت اس قدر واضح دلائل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ تعصب سے پاک ذہن کبھی بھی راہِ حق سے بھٹک نہیں سکتا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع "سورہ یٰس کے تفسیری معارف اور فضائل و برکات "تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ قرآنِ مجید کے تین بنیادی عقائدتوحید، رسالت اور آخرت اس قدر واضح دلائل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ تعصب سے پاک ذہن کبھی بھی راہِ حق سے بھٹک نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن میں سابقہ اقوام کی وہ مثالیں بھی موجود ہیں جو انبیاءِ کرام کی تکذیب اور گستاخی کے باعث اللہ کے سخت عذاب کا شکار ہوئیں، انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں بھی ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کا تحفظ امت اور ملک کی سلامتی کی بنیاد ہے۔
انہوں نے سورہ یٰس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ احادیث کے مطابق جو شخص اسے صبح تلاوت کرے اللہ اس کی ضروریات پوری فرماتا ہے، اور رات کو پڑھنے والے کے لیے موت آسان کر دی جاتی ہے، انہوں نے بتایا کہ ان کے ذاتی مشاہدے میں بھی اس سورت کی برکات بے شمار ہیں۔
محمد عثمان طاہر جپہ نے سورہ یٰس کے ابتدائی مضامین اور احادیث کی روشنی میں اس کی عظمت پر گفتگو کی۔
انہوں نے حضرت ابوذر غفاریؓ کی وہ روایت بیان کی جس میں نبی کریم ﷺ نے سورج کے سجدہ ریز ہونے اور اپنے مقرر مدار میں چلنے کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اسی حقیقت کی طرف سورہ یٰس کی آیت 38 میں بھی اشارہ موجود ہے۔
انہوں نے سورہ یٰس کے نزولی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ سورت مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی، انہوں نے وہ واقعہ بھی بیان کیا جب مشرکینِ مکہ نے حضور ﷺ کی قرأتِ قرآن روکنے کی کوشش کی مگر اللہ نے ان کے ہاتھ پاؤں بے بس کر دیے۔
پروفیسر احسن اویس مصطفوی نے سورۂ یٰس کے حروفِ مقطعات اور ان کے تفسیری پہلوؤں پر گفتگو کی۔
انہوں نے سورہ’’یٰس‘‘کے بارے میں متعدد ائمہ کے اقوال پیش کیے کہ بعض نے اسے خطابِ الٰہی اور بعض نے “یا محمد ﷺ” یا “یا سید البشر” کے معنی میں بیان کیا ہے،انہوں نے بتایا کہ یہ سورت ایسے دور میں نازل ہوئی جب حضور ﷺ شدید مخالفت کا سامنا کر رہے تھے مگر قرآن نے اعلان کیا کہ “آپ صراطِ مستقیم کے راہبر ہیں۔”
انہوں نے قیامت، جزا و سزا، اور اہلِ ایمان کے درجات سے متعلق احادیث بھی بیان کیں، جن میں جنت میں دیدارِ الٰہی اور “میدانِ مزید” کے پرنور مناظر کا ذکر شامل ہے۔
مولانا امیر حمزہ نے سورہ یٰس کے کردار حضرت حبیب النجارؓ کا ایمان افروز واقعہ نہایت پُرسوز انداز میں بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح فرعون کے دربار میں ایک مومن شخص حضرت موسیٰؑ کا خفیہ مددگار تھا، اسی طرح حبیب النجارؓ نے رسولوں کی تصدیق میں اپنی جان قربان کی۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں برسوں قبل ترکی و شام کی سرحد کے قریب وہ مقام دیکھنے کا موقع ملا جہاں سے حضرت حبیب النجارؓ رسولوں کی مدد کو دوڑتے ہوئے آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب انہیں شہید کیا گیا تو اللہ نے فرمایا: ’’داخل ہو جا جنت میں‘‘ اور جنت میں پہنچ کر بھی انہوں نے اپنی قوم کی ہدایت کی آرزو کی۔