حکومت مذاکرات چاہتی ہے تو جیل میں بانی سے ملے:علیمہ خان، نورین نیازی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان ، نورین نیازی نے کہا کہ احتجاج کی کال پی ٹی آئی نے دی لیکن عوام سے زیادہ پولیس سڑکوں پر موجود ہے۔
چکری انٹرچینج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب تک ملاقات نہیں کروائی جاتی ہم یہیں بیٹھے رہیں گے،حکومت مذاکرات چاہتی تو جاکے بانی سے جیل میں بات کرے، حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں، احتجاج ہوتا ہے تو ڈر جاتے ہیں۔
بانی کے بہنوں نے کہا کہ بچوں کے بارے رانا ثناء اللہ نے کہا تھا وہ پاکستان آئیں گے تو گرفتار ہوں گے، بانی کے بچے آنا چاہتے ہیں انہوں نے ویزا کی درخواست کی لیکن انہوں نے نہیں دیا، بچوں کے ویزا ٹریکنگ نمبر ہمارے پاس موجود ہیں۔
صحافی کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آپ پاکستان اور مقبوضہ کشمیر دونوں کا جھنڈا اُٹھائیں،علیمہ خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہی آج پاکستان میں ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں مقبوضہ کشمیر والے بتاتے ہیں انکے حالات اتنے خراب نہیں جتنے پاکستان کے ہیں، کشمیر اور پاکستان میں ایک ہی طرح کا ظلم ہورہا ہے،جس احتجاج کی توقع کی جارہی تھی اسطرح لوگ نکلے نہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ پتہ نہیں یہ تو آپ کو پتہ ہوگا،لوگ نکلنا چاہ رہے ہیں اور لوگ نکلیں گے، بانی کی فیملی کی خواتین کو روکنے کی سمجھ نہیں آرہی، پی ٹی آئی کے پیچھے 80 فیصد عوام کھڑی ہے، بانی نے انہی 80 فیصد عوام کو باہر نکلنے کا کہا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ رول آف لاء کیلئے ہماری تحریک جاری رہے گی، سیاسی جماعتوں کو اب سمجھ آرہی ہے ملک کے ساتھ کیا ہورہا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا جوبائیڈن نے انکی حکومت گرائی، ٹرمپ کیلئے تو ہماری حکومت ہی بھاگی جارہی ہے کیوں؟
انھوں نے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ ملک کی معدنیات دینی پڑ رہی ہیں، کمزوروں سے دنیا فائدہ اُٹھاتی ہے یہ نظر آرہا ہے، گزشتہ سماعت پر ہمارے وکیل نے یہ پیغام دیا تھا کہ نا اہل ہونے والی سیٹوں کے الیکشن میں پی ٹی آئی حصہ نہیں لے گی۔
علیمہ خان نے کہا کہ سلیمان اور قاسم امریکہ جائیں پاکستان آئیں جہاں مرضی جاسکتے ہیں، بانی کے بچے ٹرمپ کے پاس نہ جائیں تو کہاں جائیں،پاکستان میں انصاف کیلئے بچے کہاں جائیں گے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں لوگ نہیں نکلے تو اتنی پولیس جگہ جگہ کیوں کھڑی ہے، پولیس رات کو لوگوں کے گھروں میں گھسی ہے، ایک بیاسی سال کے شخص کو گھسیٹ کر لے گئے ہیں، لوگ نکلتے ہیں نکلنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ بچوں نے پاکستان آنے کا کہا تو ساری حکومت کے ہاتھ پاوں پھول گئے، آپ حکومت سے پوچھیں امریکہ کیا کرنے جارہا ہے ،آپ بچوں کی بات کیوں کررہے ہیں، آپ بار بار ناجائز سوال کرتے ہیں سلیمان قاسم کا نام آپ کو نہیں لینا چاہیئے۔
نورین نیازی نے کہا کہ وہ بچے ہیں اپنے والد کیلئے پریشان ہیں، ظالم نظام کے خلاف رپورٹرز کو بولنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں :قومی اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور