سی پیک کی بدولت پاکستان نے 3 سال میں بجلی بحران پر قابو پایا، وزیراعظم

Sep 04, 2025 | 20:57:PM
سی پیک کی بدولت پاکستان نے 3 سال میں بجلی بحران پر قابو پایا، وزیراعظم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ سی پیک کی بدولت پاکستان نے 3 سال میں بجلی بحران پر قابو پایا،صدر شی جن پنگ نے 2015 میں اسلام آباد میں سی پیک کی بنیادرکھی،چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔

 دوسری پاکستان چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت باعث افتخار ہے،اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس میں شریک ہوں،اقتصادی ترقی کا لانگ مارچ جاری رکھیں گے۔
پاکستان اور چین کے درمیان 4.2 ارب ڈالر کے معاہدے بھی ہوئے  جس میں زراعت ، الیکٹرک وہیکلز کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کئے گئے،وزیر اعظم نے اس حوالے سے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے،معاہدوں سے دونوں ملکوں میں تعاون کو فروغ ملے گا ،پیٹروکیمیکل،آئرن اور سولرانرجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا،بزنس ٹو بزنس کانفرنس مضبوط دوستی کی عکاس ہے۔
 وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان نے 3 سال میں بجلی بحران پر قابو پایا، وزیراعظم نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحالی ہوئیں، زراعت بحال ہوئی،انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا جو وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا، چین وہ اشیاء پاکستان سے درآمد کر سکے گا جو دیگر ممالک سے کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے جس میں چین عالمی سطح پر سب سے آگے ہے، کان کنی اور معدنیات باہمی تعاون کا ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلاشبہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں، چین ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر شعبوں کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کر سکتا ہے اور پاکستان کی افرادی قوت سے استفادہ کر سکتا ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم لاگت پر میسر ہے، چینی سرمایہ کار تھرڈ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا منافع بڑھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں چینی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستانی وزراء اور توانائی، انفارمیشن، ٹیکنالوجی، کامرس اور تمام شعبوں کے حکام موجود ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی موجودگی اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان چین جیسے عظیم دوست ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور بطور پاکستانی وزیراعظم میں یہاں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری معیشت مضبوط ہو گی تو دونوں ملک مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، قلیل المدتی، وسط مدتی اور طویل المدتی سطح پر معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذاتی عزم کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہے اور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔

اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اسی طرح آپ کا دوسرا گھر ہے جس طرح چین ہمارا دوسرا گھر ہے، آگے بڑھیں اور جائنٹ وینچر سرمایہ کاری کریں، تمام وزارتیں، ادارے اور محکمے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ میرا خواب ہے اور ہم اس خواب کو معاہدوں پر عملدرآمد کے ذریعے پورا کریں گے، سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین 15 سال میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور یہ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ ممکن ہوا ہے اور ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کو جو شاندار ترقی ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا اور نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار دیا بلکہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کی پیشکش کر رہا ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے، آج اپنے تجربات کے استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت ہے اور پاکستان ایک دن متحرک معیشت میں بدلے گا۔   کانفرنس میں اپنے اختتامی کلمات میں  وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی تقریب ہوتی رہی ہیں لیکن انتھک کوششوں اور سخت محنت سے یہ ممکن ہوا ہے پاکستان میں چین کے سفیر، چینی حکومت اور اور چین کی عظیم کاروباری شخصیات نے اس کو ممکن بنایا ہے،متعلقہ وفاقی وزرا، سرمایہ کاری بورڈ، ایس آئی ایف سی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمہ  کے درمیان بہتر رابطے سے اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے،اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،،مفاہمت کی یادداشتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا،انہوں نے کہا کہ 1.5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز پر پاکستان اور چینی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں،مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا اور ان پر عمل درامد ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا،اور دونوں حکومتوں کو قریبی رابطے کے ذریعے اگے بڑھنا ہوگا،،چین میں پاکستان کے سفیر اور چین کے پاکستان میں سفیر  اور ہمارے وفاقی وزراء کو متعلقہ چینی عہدے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے،انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون لائق تحسین ہے،دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگااور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،ہماری جی ڈی پی  ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی،وزیراعظم نے کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے  ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے  نہیں بیٹھیں گے اور اس کے لئے انتھک محنت کریں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار لمحہ ہوگا اس مقصد کے لیے تمام حکومتی ادارے، محکمے اور نجی شعبہ مل کر مکمل ہم آہنگی اور تعاون سے کام کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے دن رات ایک کر دوں گا،اس کے لئے ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی اس سے پاکستان اور چین وہ رول ماڈل بنیں گے جس کی دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد سے ترک فضائیہ کے کمانڈر جنرل کی ملاقات