چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کیخلاف وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دائر

Jun 04, 2026 | 19:41:PM
چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کیخلاف وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دائر
کیپشن: جے یو آئی پارٹی لوگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) جے یو آئی پاکستان کی جانب سے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دائرکردی گئی۔

جےیوآئی  نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے بعض دفعات کو قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 227 کے منافی قرار دے دیا ،وفاقی شرعی عدالت میں شریعت پٹیشن سنیٹر کامران مرتضٰی نے دائر کی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام بچوں کے استحصال اور ظلم کی مکمل ممانعت کرتا ہے اور بچوں کے تحفظ کو اسلامی فریضہ قرار دیتا ہے، جے یو آئی کے مطابق قانون میں 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو "بچہ" قرار دینا اسلامی فقہ میں بلوغت (Bulugh) کے اصول سے متصادم ہے، جہاں بلوغت کو قانونی اہلیت کا معیار سمجھا جاتا ہے،شادی کیلئے18 سال کی لازمی عمر مقرر کرنا اسلامی تعلیمات اور صدیوں پر محیط فقہی اتفاق رائے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

درخواست میں مزید کہا  گیا ہے کہ قانون کے تحت کم از کم دو سال قید کی لازمی سزا اسلامی اصولِ تعزیر اور عدل کے منافی ہے کیونکہ اس میں عدالت کے صوابدیدی اختیار کو محدود کیا گیا ہے،قانون میں نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات کو بعض صورتوں میں "چائلڈ ابیوز" قرار دینا اسلامی نکاح کے تصور اور ازدواجی حقوق سے متصادم ہے۔

پٹیشن میں والدین اور سرپرستوں کے خلاف جرم کا مفروضہ (Presumption of Guilt) قائم کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے اور اسے اسلامی اصولِ "براءتِ اصل" (Presumption of Innocence) کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

جے یو آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون میں غیر معمولی حالات کیلئے کسی عدالتی استثنا (Judicial Exception) کا طریقہ کار موجود نہیں، حالانکہ متعدد مسلم ممالک میں ایسے قانونی انتظامات موجود ہیں۔

جے یو آئی کا مزید کہناتھا کہ قانون کی بعض دفعات اسلامی خاندانی نظام، ولایت (سرپرستی) اور نکاح سے متعلق شرعی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں،18 سال سے کم عمر افراد کی تعریف اور اس سے متعلق متنازع دفعات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے،لازمی سزاؤں میں عدالتی صوابدید شامل کی جائے، والدین اور سرپرستوں کے خلاف جرم کے مفروضے کو ختم کیا جائے،غیر معمولی حالات میں عدالتی اجازت کے ذریعے استثنا کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے،قانون کو قرآن و سنت اور اسلامی فقہی اصولوں کے مطابق ہم آہنگ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکی دیدی