وفاقی آئینی عدالت کا ہائیکورٹس کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ

Jun 04, 2026 | 12:52:PM
 وفاقی آئینی عدالت کا ہائیکورٹس کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( امانت گشکوری)وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹس کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔
وفاقی آئینی عدالت نےگوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی بنام ماسٹرز ٹائلز کیس کا فیصلہ جاری کردیا،تین صفحات پرمشتمل فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا۔

فیصلے میں کہاگیاہے کہ ہائیکورٹ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں،ہر ہائیکورٹ آزاد آئینی عدالت ہے،ضلعی یا آرٹیکل 203 کے تحت قائم عدالتیں ہائیکورٹ کے ماتحت ہیں،ہائیکورٹ کے تمام فیصلے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جاسکتے ہیں،ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنا عدالت کو کسی بھی طرح ماتحت نہیں بناتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹس کے آئینی اور انتظامی اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس نہ تو سپریم کورٹ کے ماتحت ہیں اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے۔
فیصلے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو کیس جلد نمٹانے کی ہدایت کی استدعا کی گئی،اکثر اعلیٰ عدلیہ سے ہائیکورٹ کو جلد فیصلوں کی ہدایات کرنے کی درخواستیں کی جاتی ہیں،ملک میں اس وقت 5 خود مختار ہائیکورٹس ہیں اورہر ہائیکورٹ آزاد آئینی عدالت ہے،ہائیکورٹس کو ہدایات جاری کرنے کے احکامات بہت احتیاط اور مناسب الفاظ میں دیے جانے چاہئیں،ہائیکورٹس کے پاس مقدمات کے آزاد روسٹر اور کیس مینجمنٹ کے نظام موجود ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام کیلئے سیکیورٹی گائیڈ لائن جاری کر دی
فیصلے کے مطابق کوئی بھی حکم یا ہدایت جو ایسی پالیسی یا کیس فکسیشن پر حاوی ہو انتظامی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہے،بعض اوقات مقدمے کی ہنگامی نوعیت کا تقاضا ہوتا ہے کہ معاملہ واپس بھیجے جانے پر متعلقہ ہائیکورٹ کی جانب سے جلد سنا جائے،ایسے مقدمات میں مناسب الفاظ کا استعمال ہونا چاہیے تاکہ ہائیکورٹ کی آزادی متاثر نہ ہو،عام طور پر جاری کردہ ہدایات عدالتی کے بجائے انتظامی نوعیت کی ہوتی ہیں،موجودہ اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا جاتا ہے کہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التواء تصور کی جائے گی،توقع کی جاتی ہے کہ کیس کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔