آن لائن حراسانی ، خواتین صحافیوں کی نصف تعداد خود سنسرشپ پر مجبور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز )صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے ادارے یو این ویمن کی نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی بدسلوکی اور ہراسانی کے باعث خواتین صحافیوں کی نصف تعداد خود سنسرشپ پر مجبور ہو چکی ہے، جبکہ 22 فیصد اپنے پیشہ وارانہ کام میں بھی یہی طرزِ عمل اختیار کر رہی ہیں۔
عالمی یوم آزادی صحافت (3 مئی) سے قبل جاری کی گئی رپورٹ "آن لائن تشدد، اثرات، اظہار اور ازالہ" کے مطابق، 12 فیصد خواتین صحافیوں، انسانی حقوق کی کارکنوں اور عوامی شخصیات نے بتایا کہ ان کی ذاتی تصاویر سوشل میڈیا پر بغیر اجازت شیئر کی گئیں، جن میں بعض اوقات نجی یا جنسی نوعیت کا مواد بھی شامل تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 6 فیصد خواتین صحافی ڈیپ فیک کا نشانہ بنیں، جبکہ ہر تین میں سے ایک خاتون کو آن لائن پیغامات کے ذریعے ناپسندیدہ جنسی پیشکشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ہراسانی اکثر منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کی جاتی ہے، جس کا مقصد خواتین کو خاموش کرنا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 45 فیصد خواتین صحافیوں نے سوشل میڈیا پر خود سنسرشپ اختیار کی، جو 2020 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 22 فیصد نے اپنے پیشہ وارانہ کام میں بھی یہی رویہ اپنایا۔
تاہم ایک مثبت رجحان بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق قانونی کارروائی اور پولیس کو رپورٹ کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں 22 فیصد خواتین نے آن لائن تشدد کے واقعات پولیس کو رپورٹ کیے، جبکہ 2020 میں یہ شرح 11 فیصد تھی۔ اسی طرح 14 فیصد خواتین مجرموں یا متعلقہ اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہیں، جو 2020 میں 8 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق آن لائن تشدد خواتین کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ تقریباً 24.7 فیصد خواتین صحافیوں کو بے چینی یا ڈپریشن کا سامنا ہوا، جبکہ 13 فیصد کو بعد از صدمہ ذہنی تناؤ (PTSD) لاحق ہوا۔
عالمی سطح پر قانونی تحفظ کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں خواتین کو سائبر ہراسانی سے بچانے کے لیے مؤثر قوانین موجود ہیں، جبکہ تقریباً 1.8 ارب خواتین اور لڑکیاں اب بھی ایسے تحفظ سے محروم ہیں۔
یو این ویمن کے شعبہ انسدادِ تشدد کی سربراہ کیلیوپی منگیرو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے آن لائن ہراسانی کو مزید آسان اور خطرناک بنا دیا ہے، جس سے خواتین کے حقوق کو نقصان پہنچ رہا ہے، خصوصاً ایسے معاشروں میں جہاں جمہوری اقدار کمزور اور صنفی تعصب زیادہ پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ متوقع