نورِ سحر میں " معذور اورسپیشل افراد کی خدمت۔۔۔جنت کی ضمانت " روح پرور اور علمی نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ نے سیرتِ نبوی ﷺ کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ نے نابینا، کمزور اور معذور افراد کو خصوصی محبت دی اور انہیں معاشرے کے ’’اصل VIP‘‘ قرار دیا

Dec 03, 2025 | 12:35:PM
 نورِ سحر میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع" معذور اور سپیشل افراد کی خدمت۔۔۔جنت کی ضمانت "تھا۔

پروگرا کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ نے سیرتِ نبوی ﷺ کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ نے نابینا، کمزور اور معذور افراد کو خصوصی محبت دی اور انہیں معاشرے کے ’’اصل VIP‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے  خلفائے راشدین کے دور میں بھی ان کے وظائف، خادم اور حکومتی سرپرستی کے واضح انتظامات موجود تھے۔

لیفٹیننٹ کمانڈر (ر) شواز بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی 15 فیصد آبادی کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہے مگر سہولیات اور حقوق نہ ہونے کے باعث یہ لوگ پس منظر میں چلے جاتے ہیں،انہوں نے معذور افراد کے لیے ایک سمارٹ ڈس ایبلٹی کارڈ متعارف کرانے کا اعلان کیا جس کے ذریعے مفت تعلیم، علاج، ٹرانسپورٹ اور قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔

ڈاکٹر عفاف منظور نے کہا کہ معذوری کو کمی نہیں بلکہ انسانیت کے مختلف انداز کے طور پر دیکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مناسب سہولیات ملنے پر ڈفرنٹلی ایبلڈ افراد عام لوگوں سے بھی بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ معاشرے کو خیرات نہیں بلکہ حقوق کی فراہمی پر توجہ دینا ہوگی۔

مبشر شہزاد نے اپنی کامیابی کی جدوجہد بیان کرتے ہوئے کہا کہ مقابلے کے امتحان میں حوصلہ شکن باتوں کے باوجود والدین نے عزم اور اعتماد دیا، آج وہ لاہور کے 16 سرکلز میں کارپوریٹ ٹیکس کلیکشن کے اہم افسر ہیں اور ایک سال میں ریونیو دوگنا کر کے نئی مثال قائم کر چکے ہیں۔

مبشر شہزاد کا کہنا تھا کہ اصل اندھا وہ ہے جو عقل کا اندھا ہو،انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور معاشرے کو مل کر معذور افراد پر اعتماد کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں پوری طرح ظاہر کر سکیں۔

ڈاکٹر کاشف اقبال نے بھی اپنی بینائی کی محرومی کے باوجود تعلیمی و پیشہ ورانہ کامیابیوں کا سفر بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ قوانین ہونے کے باوجود سب سے بڑی رکاوٹ شعور کی کمی ہے، 2021 کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سفری رعایتی کارڈ رات کے وقت قبول نہ کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ عملی سطح پر آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔

ان کے مطابق دیہی علاقوں میں 60 سے 70 فیصد افراد ڈس ایبلٹی کے مفہوم اور حقوق سے آگاہ نہیں۔