ملتان: سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل، ہیڈ محمد والا ٹریفک کیلئے بند، بہاولنگر میں چاویکا بند ٹوٹ گیا

Sep 02, 2025 | 10:20:AM
ملتان: سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل، ہیڈ محمد والا ٹریفک کیلئے بند، بہاولنگر میں چاویکا بند ٹوٹ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز )  لاہور سمیت دیگر علاقوں  میں تباہی مچاتا ہوا سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل ہوگیا، ملتان میں دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا ہیڈ محمد والا سے گزر رہا ہے، پانی متعدد بستیوں میں داخل ہونے کے بعد ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ بستیوں سے لوگوں کو محفوط مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، اکبر فلڈ بند کے قریب پولیس نے بیریئر لگاکر ہیڈ محمد والا روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، ہیڈ محمد والا پر 4 لاکھ 90 ہزار کیوسک کا ریلا پہنچ گیا، آج ملتان میں 8 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا، پانی زیادہ ہونے کی صورت میں بند پر شگاف ڈالا جائے گا، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب فواد ہاشم ربانی نے مظفرگڑھ کا ہنگامی دورہ کیا، اور دریائے چناب کے کنارے دوآبہ کے مقام پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی انتظامیہ اور عوام کو سیلاب کے چیلنج کا سامنا ہے۔

 ادھر بہاولنگر میں دریائے ستلج میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے سے چاویکا بہادر کا بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں پانی کی لپیٹ میں آگئیں۔۔مین شاہراہ میں پانی موجود ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

چیچہ وطنی میں سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آنے کے بعد لوگوں کی مویشوں کے ہمراہ محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے،

جھنگ کے موضع پکے والا میں 45 سالہ خاتون سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔

علاقہ مکینوں کے مطابق شہناز بی بی سیلابی پانی کم ہونے پر اپنےگھر واپس جارہی تھی، راستے میں سیلاب کی تیز لہروں کی نذر ہو گئی، علاقہ مکینوں نے خاتون کی لاش پانی سے نکال کر ورثا کے حوالے کی۔

ننکانہ صاحب میں دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب سے قریبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، سیلاب متاثرین کا شکوہ ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔

 قبل ازیں پنجاب کے ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے کہا ہے کہ صوبے میں اب تک 24 لاکھ افراد، 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہوئے، سیلاب میں پھنسے 9 لاکھ 99 ہزار افرادکو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

 صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں شدید سیلاب کے باعث 24 لاکھ سے زائد افراد اور 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

پی ایم ڈی نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں آندھی اور کہیں کہیں بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

 سندھ میں کچے کے علاقے سے نقل مکانی
سندھ کے مختلف اضلاع کے کچے کے علاقوں میں سیلابی صورتحال کے بعد لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔ سندھ کے 3 بیراجوں پر بدستور نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے آج 8 لاکھ کا سیلابی ریلا آنے کی توقع کی جارہی ہے، ضلع کونسل سکھر کی جانب سے کچے میں پانی میں پھنسے کئی خاندانوں کو کشتیوں پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے 78 دیہات زیر آب آگئے، بے گھر لوگوں نے کشتتیوں پر محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی۔

ٹھٹھہ میں سیلاب سے کچے کے متعدد گاؤں زیر آب آنے سے 100 سے زائد مکانات ڈوب گئے، سیلاب سے متاثرہ افراد اپنی مدد آپ کے تحت کیمپ لگانے میں مصروف دکھائی دیے۔

گھوٹکی میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافے سے کچے کے متعدد دیہات زیر آب ہیں، لوگوں کی کشتیوں پر محفوط مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

سیہون میں بھی دریائے سندھ کے پانی نے کچے کے مختلف دیہات کو ڈبودبا ہے۔

نوشہروفیروز میں دریائے سندھ میں مسلسل پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، دریائے سندھ کے حفاظتی پشت ایس ایم بچاؤ بند پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، متعدد دیہات زیر آنے کے بعد مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔

سندھ سے 13 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا۔

 صوبائی وزارتِ اطلاعات نے ’ایکس‘ پر ان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے۔ 

دوسری جانب میئر سکھر، ترجمان سندھ حکومت ارسلان اسلام شیخ نے کشتی پر دریائے سندھ میں سیلاب کا جائزہ لیا، میئر سکھر کا کہنا تھا کہ 4 ستمر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا جس کی تیاریاں کر رکھی ہے، سندھ کے کسی بیراج کو سیلابی صورت حال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

 اس سے قبل بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پاکستان کو انڈس واٹر کمیشن کے بجائے غلط طریقے سے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کےبارے میں آگاہ کیا، جس کے بعد پنجاب کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا جبکہ راوی، ستلج اور چناب میں 5 ستمبر تک اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 ملتان میں دریائے چناب کے مقام ہیڈ محمد والا پر چار لاکھ پچاس ہزار کیوسک کا بڑا سیلابی ریلہ داخل ہو گیا، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے افسران نے فوری بریچنگ کا فیصلہ کیا ہے، سیلابی ریلے کے باعث جھوک وینس سے لے کر ہیڈ محمد والا تک کے سینکڑوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور وہاں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

  یہ بھی پڑھیں:موسلادھار بارش، بس سروس معطل ، ہنگامی سائرن بج گئے

دریائے چناب کے قریب واقع بند بوسن میں سیلابی صورتحال خطرناک حد تک شدت اختیار کر گئی ہے، پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق سیلابی ریلا اب رہائشی بستیوں کی جانب بڑھنے لگا ہے، جبکہ بعض مقامات پر جھوک عاربی کے سکول میں بھی پانی داخل ہو چکا ہے، جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

دریائے ستلج میں ہری کے اور فیروزپور پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، پاکتن ،وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفر گڑھ متاثر، ہیڈ تریموں پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلابی ریلوں سے ہزاروں بستیاں ڈوب چکی ہیں، فصلیں اور رابطہ سڑکیں زیر آب ہیں جبکہ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

 سلابی ریلا تاندلیانوالہ میں تباہی مچانے کے بعد کمالیہ میں داخل ہو چکا ہے جس سے درجنوں دیہات، فصلیں اور رابطہ سڑکیں زیر آب ہیں، مین جی ٹی روڈ لاہور فیصل آباد ٹوٹ گئی، سڑک بہ جانے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوا، فیصل آباد، لاہور اور ملتان جانے والی ٹریفک مکمل بند ہوگئی۔

مزید پڑھیں:انٹرمیڈیٹ کے  نتائج کا اعلان،لڑکیاں بازی لے گئیں

ضلع چنیوٹ میں سیلاب سے 141 دیہات اور 2لاکھ سے زائد افراد متاثر ہیں، ملتان میں دریائے چناب کے قریب سیلاب سے کئی بستیاں زیر آب ہیں، فیصل آباد، لاہور اور ملتان جانے والی ٹریفک مکمل بند ہے۔

 دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ سے گزرتے ہوئے جھنگ میں داخل ہو چکا ہے جہاں تقریباً 200 دیہات زیر آب آ گئے اور سینکڑوں گھر پانی میں ڈوب گئے، متاثرہ علاقوں سے 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔

    ملتان سے دریائے چناب کا بڑا ریلا گزر رہا ہے، شہر کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا روڈ پر ڈائنا مائٹ نصب کی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر شگاف ڈالنے کی تیاری ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے راوی، چناب اور ستلج میں 5 ستمبر تک اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

ہیڈ تریموں پر بہاؤ 5 لاکھ 16 ہزار کیوسک ہے اور یہاں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ادھر دریائے راوی میں جسڑ پر بہاؤ 54 ہزار کیوسک ہے جبکہ شاہدرہ پر بہاؤ 60 ہزار کیوسک ہے اور بلوکی ہیڈورکس پر بہاؤ 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک ہے۔

دریائے راوی کا ہیڈ سدھنائی پر بہاؤ 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک ہے، دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک جبکہ سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ہے۔

  یہ بھی پڑھیں:معروف سیاسی شخصیت کے والد انتقال کر گئے

دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 96 ہزار جبکہ خانکی ہیڈورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 20 ہزار اور قادرآباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔

ریلیف کمشنر کے مطابق 5 ستمبر تک راوی، ستلج اورچناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، بالائی علاقوں میں بارشوں سے دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

تین ستمبر تک دریاؤں کے بالائی حصوں میں بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے جس کے باعث لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔