بھارت کا شہری علاقوں کو نشانہ بنانا،سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا امن کیلئے خطرہ ہے،بلاول بھٹو
’تحقیق یا شواہد کےبغیر پاکستان پرالزام تراشی ناقابلِ قبول‘بلاول بھٹو زرداری کو واضح پیغام
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس ) پاکستانی سفارتی مشن کے قائد بلاول بھٹو زرداری نے دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف رکھ دیا،بلالول بھٹو نے دنیا کو آگاہ کیا کہ بھارت کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا اور سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی سفارتی مشن کے قائد بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پارلیمانی وفد کی بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین سے ملاقات کی۔

سابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، الجزائر، گیانا، جاپان، جنوبی کوریا، سیرا لیون اور سلووینیا کے نمائندوں کے سامنے پاکستانی مؤقف رکھا،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بے بنیاد بھارتی الزامات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین کے سامنے دلائل کے ساتھ مسترد کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نےدنیا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی تحقیق یا شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی ناقابلِ قبول ہے،بھارت کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا اور سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

شیری رحمان، حنا ربانی اور مصدق ملک ودیگر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان میں پانی کی قلت، غذائی بحران اور ماحولیاتی تباہی جنم لے سکتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ عالمی برادری صرف تنازع کے بعد حل کی کوششوں تک محدود نہ رہے بلکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے تنازع سے قبل حل تلاش کرے،پاکستان کا ردعمل بھارتی جارحیت کے خلاف نپا تُلا، ذمہ دارانہ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈامیں بھارتی دہشت گردی، مودی کی جی 7میں شرکت مشکوک