پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک ) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو گیا، قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 منظوری کرلیا گیا ، اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہو رہا ہے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اقلیتوں کے حقوق کا بل پیش کیا، صدر کی جانب سے بحث کے لیے اقلیتی حقوق کمیشن بل واپس بھیجا گیا تھا۔
اقلیتی حقوق کمیشن کی تحریک کے حق میں 160 ووٹ جبکہ مخالفت میں 79 ووٹ پڑے ہیں، تحریک کی پیپلز پارٹی نے حمایت کی لیکن پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے واک آؤٹ کیا۔
پارلیمنٹ کے چوتھے مشترکہ اجلاس میں آج کئی اہم قوانین کی منظوری متوقع ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل2025 پیش کیا اور کہا کہ قرآن و سنت کے منافی کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہو سکتی، جے یو آئی کو بھی اس حوالہ سے یقین دہانی کروائی ہے، اس کے باوجود کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے اس کی شق 35کو حذف کر دیا جائے، اس پہ بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امن دشمنوں کا وار،بڑی اہم شخصیت وطن پر قربان
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایکٹ غیر ممسلموں کے لیے ہے، آئین پاکستان کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں، یہ ہمارے خمیر میں نہیں کہ کسی بھی صورت ایسی قانون سازی ہو جس سے قادیانی فتنے کو ہوا ملے، اقلیتی برادری بھی اتنی ہی محب وطن ہے جتنے ہم ہیں، ہم نے اپنے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، یہ بل 12 سال سے پینڈنگ ہے، منظور کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ اقلیتوں کے حقوق کا نہیں، اقلیتوں کے حقوق کیلئے ہم سب کی سوچ ایک جیسی ہے، آپ اس طرح کا قانون کیوں لاتے ہیں جس سے کل کوئی غلط فائدہ اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مختلف معاملہ ہے،قانون کے اوپر قانون کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ وفاقی وزیر کو قادیانیوں کی چالاکیوں کا پتہ نہیں ہے، ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے جس سے ان کو راستہ ملے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ گورنر راج مسائل کا حل نہیں، گورنر راج کے معاملے سے اے این پی کو دور رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم گورنر راج کی مخالفت کرتے ہیں، کی ہے اور کرتے رہیں گے، ہم کبھی بھی غیر جمہوری عمل کا ساتھ نہیں دیں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اسلام کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی، یہ پارلیمان متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسلام کے خلاف قانون سازی ہو، قادیانیوں کا مسئلہ بہت حساس ہے۔
بیرسٹرگوہر نے کہا کہ آج اس ایجنڈے میں آپ نے 7قوانین کو منظور کرنا ہے، چاہتے ہیں ایسی قانون سازی ہو کہ جیسے ہماری پروٹیکشن ہوتی ہے ایسی اقلیت کی ہو، آئین میں لفظ مینارٹی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا دیدیا
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سینیٹ اورقومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوتی ہے، آج ہم یہاں کچھ لوگوں کو حقوق دینے کیلئے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جمہوریت، قانون اورفیصلہ سازی میں اپوزیشن لیڈر کا نہ ہونا کوئی اچھی بات نہیں، آپ کو اپوزیشن کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ آپ اچانک آئیں اوربل دے دیں، تمام قانون سازی عجلت، جلدبازی میں ہوتی ہے، جس چیز میں ابہام ہووہ آگے نہیں بڑھ سکتی۔
عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ جس بل پر آج ہم بات کررہے ہیں یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ تھا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو کافر قراردیا، اپوزیشن کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کوئی بیان نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے دروازے نہ کھولیں کہ حرمت رسول پر کوئی سوال اٹھے، محمدؐ اورآل محمد کی ناموس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی اورنہ ہونے دیں گے۔
پیپلپزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ مولانا صاحب کی بات کی حمایت کرتا ہوں، یہ کہہ کر وہ ایوان سے باہر چلے گئے۔
ہمارا اقلیتوں کے ساتھ کوئی مسلہ نہیں ہے، قادیانیت اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں جس کو عوام برداشت نہیں کر سکتے، ہمارا وہی مؤقف ہے جو مولانا فضل الرحمان کا ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے 15 نکاتی ایجنڈے کے مطابق آج قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 منظور کیا جائے گا ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 منظورکیا جائے گا۔
اجلاس میں حیاتیاتی و زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کنونشن برائے حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیار عملدرآمد بل 2024 منظور کیا جائے گا، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023 منظور کیا جائے گا۔
ایجنڈے کے مطابق نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023 منظور کیا جائے گا، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023 منظور کیا جائے گا، گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 منظور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں صحافیوں اور میڈیا ورکز کے تحفظ کا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کمیشن کا بل، پاکستان اینیمل کونسل کا بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔