سموگ تدارک کیس: شیرانوالہ و ٹیکسالی گیٹ منصوبوں پر حکمِ امتناعی برقرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پی ایچ اے کے رولز کے حوالے سے جاری کیے گئے گزٹ نوٹیفکیشن پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر جاری حکم امتناعی میں تاحکمِ ثانی توسیع کر دی۔
عدالت نے رائیونڈ نہر کے کنارے درختوں کی کٹائی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کنزرویٹو فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کو تبدیل کیا جائے،جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی،دورانِ سماعت جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ ممالک میں شامل ہے اور اس آلودگی میں ٹریفک ایک بڑا سبب ہے،عدالت نے کہا کہ مختلف ایونٹس کی وجہ سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے جس سے سموگ کے خاتمے کے لیے کی گئی مہینوں کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کو پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو (PM2.5) کی بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ لاہور کے باغات اور گرین ایریاز کا تحفظ شہر کے ماحول کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اگر پی ایچ اے ان باغات کو بہتر انداز میں بحال کرے تو لاہور کا ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔
سماعت کے دوران ممبر ماحولیاتی کمیشن کمال حیدر نے عدالت کو بتایا کہ پی ایچ اے کے رولز تیار ہو چکے ہیں اور ان کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے، اس پر جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ کیا رولز کا مسودہ عدالت یا ماحولیاتی کمیشن کو پہلے دکھایا گیا تھا؟ممبر ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ انہوں نے مسودہ ابھی دیکھا ہے اور اس میں کچھ مزید چیزیں شامل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے عدالت سے مہلت کی استدعا کی تاکہ رولز کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ رولز کو جلدی میں منظور کیا گیا اور انہیں پہلے عدالت کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تھا، عدالت نے کہا کہ گزٹ نوٹیفکیشن عدالت کو دکھائے بغیر جاری نہیں کرنا چاہیے تھا،پی ایچ اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماحولیاتی کمیشن کی رضامندی کے بعد ہی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
اس موقع پر سول سوسائٹی کی جانب سے بھی نوٹیفکیشن میں بہتری کے لیے سفارشات عدالت میں جمع کرائی گئیں،سماعت کے بعد سیکرٹری ماحولیاتی کمیشن نے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو بھی کی ،عدالت نے ماحولیاتی کمیشن اور پی ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ سول سوسائٹی کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات کا جائزہ لے کر قابلِ عمل تجاویز پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔سماعت کے دوران پنجاب حکومت، ممبر ماحولیاتی کمیشن، ایل ڈی اے اور پی ایچ اے کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز اور سیکرٹری ماحولیاتی کمیشن فرحان سعید بھی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 اپریل تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں : خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرکے تیل کی نئی پائپ لائن ڈالنے پر غور