لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، تمباکو اورپان کی تشہیر پر پابندی برقرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)سگریٹ اور تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی کیخلاف درخواستیں خارج، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے اہم فیصلہ آگیا ہے۔
جسٹس راحیل کامران نے سگریٹ و مشروب ریٹیلرز،دیگرز کی درخواست پر ہائیکورٹ میں 35 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔
جسٹس راحیل کامران نے آل پاکستان مرکزی یونین پان، بیڑی، سگریٹ و مشروب ریٹیلرز کی درخواستیں مسترد کر دی اور سگریٹ تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ، پروموشن اور سپانسرشپ پر پابندی کا وفاقی نوٹیفکیشن قانونی قرار دے دیاہے۔
35 صفحات پر مشتمل فیصلے میں تفصیلی طور پر لکھا گیا کہ آرٹیکل 18 کے تحت تمباکو کی تشہیر کا کوئی غیر مشروط بنیادی آئینی حق حاصل نہیں ، تجارتی مفادات کے مقابلے میں نوجوانوں کی صحت کا تحفظ سب سے زیادہ اہم ہے جبکہ دکانوں،پوائنٹ آف سیل پر تمباکو مصنوعات کی برانڈنگ اور نمایاں نمائش پر بھی پابندی برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا گیا جبکہ ریٹیلرز کو ملنے والی کیش سکیموں، انعامات اور ڈسکاؤنٹس پر پابندی درست قرار دی گئی۔
مزید پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کے جج محمد راحیل کامران شیخ عہدے سے مستعفی
جسٹس ہائی کورٹ نے درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا کہ تمباکو نوشی کے انسدادکیلئے 2002 کے قانون کے تحت قائم کمیٹی کو مکمل پابندی کا پورا اختیار حاصل ہے جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی بین الاقوامی معاہدوں کی روشنی میں تمباکو کنٹرول وفاق کا اختیار ہے۔
فیصلے میں تفصیلی طور پر تحر یر کیا گیا ڈبلیوایچ اوکے فریم ورک کنونشن ایف سی ٹی سی کی روشنی میں گائیڈ لائنز بنانا قانونی ہے ،تمباکو عام اشیا کی طرح نہیں یہ انتہائی مضر صحت اور مہلک بیماریوں کا باعث ہے ،تمباکو کی تشہیر پر پابندی کامقصدسگریٹ نوشی کی روک تھام ہے ،کسی بھی جائز کاروبار پر بھی عوام کی صحت کے پیش نظر معقول پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں جبکہ وزارتِ صحت کا جاری کردہ مکمل طور پر قانون کے مطابق اور نافذ العمل رہے گا ۔