گووندا کا طلاق کی تشہیر کرنے والوں سے انتقام؛ 100 کروڑ روپے ہرجانے کی کارروائی کر ڈالی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)اداکار اور سابق رکن پارلیمنٹ گووندا نے اپنی طلاق اور نئی شادی کی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ قانونی کارروائی کا پہلا مرحلہ لیگل نوٹس ہوتا ہے، گووندا کی طرف سے سو کروڑ روپے ہرجانے کے لیگل نوٹس کئی اداروں کو اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا صارفین کو بھیج دیئے گئے ہیں۔ اداکار کی جانب سے جاری قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جھوٹی معلومات پھیلانے والوں سے 100 کروڑ روپے تک ہرجانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے
گووندا کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام افواہیں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہیں۔
گووندا گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل خبروں میں ہے۔ ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے ساتھ تعلقات، طلاق کی درخواست اور اداکارہ کومل رانی سوارنکر کے ساتھ رومانوی تعلقات کے بارے میں کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ اب گووندا نے اس گوسپ پر بہت غصہ ظاہر کیا اور گوسپ کو روکنے کے لئے ہرجانے کی دھمکیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
گووندا کی جانب سے جاری کی جانے والی دھمکی میں میڈیا اداروں، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ان کے بارے میں جھوٹی، من گھڑت معلومات شیئر نہ کریں۔
گووندا کے نوٹس میں تصاویر، ویڈیوز، آڈیو، ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے جعلی مواد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گووندا نے کسی کو بھی اجازت نہیں دی کہ وہ ان کی ذاتی زندگی یا شناخت کو ڈیجیٹل طریقوں سے غلط استعمال کرے.
یہ معاملہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب گووندا کی کومل رانی سوارنکر کے ساتھ کورٹ میرج کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اس سے پہلے گووندا اور سنیت آہوجا کی طلاق سے متعلق خبریں بھی سامنے آ چکی تھیں۔ گووندا کا دعویٰ ہے کہ یہ سب کچھ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور انہیں سماجی اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اس گوسپ کے "سازش" ہونے کے کوئی شواہد گووندا سامنے نہیں لائے لیکن انہوں نے لیکن سو کروڑ روپے ہرجانے کی دھمکی ضرور داغ دی۔
اداکار کے منیجر اور ٹیم کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ہتکِ عزت، رازداری کی پامالی اور سائبر کرائم کے قوانین کے تحت سخت دیوانی اور فوجداری کارروائی کی جائے گی. اس نوٹس میں یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ ذمہ دار افراد کی مالی جائیدادوں اور اکاؤنٹس کے خلاف بھی عدالت سے احکامات جاری کروائے جا سکتے ہیں۔
دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں آگ ہوتی ہے؛ کہانیوں کی بنیاد کیا ہے؟
سنیتا آہوجا کو اپنے بیٹے یش وردھن آہوجا کے ساتھ ممبئی کی باندرہ فیملی کورٹ سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ سنیتا آہوجا نے گووندا سے طلاق لینے کے لئے واقعی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ بعد میں گووندا کے منیجر ششی سنہا نے بتایا کہ سنیتا نے اپنی طلاق کی درخواست واپس لے لی ہے۔ سنیتا آہوجا کی یہ درخواست ، کہا جاتا ہے کہ، تقریباً دو سال سے زیرِ سماعت تھی۔ طلاق کی درخواست عدالت تک پہنچی تو لوگوں نے اس کی وجہ بھی تلاش کر لی۔
اس کے بعد سنیتا نے راکھی ساونت سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ انہوں نے طلاق کی درخواست اس لیے واپس لی کیونکہ گووندا کومل سے دوسری شادی کرنے والے تھے۔ تاہم گووندا کے منیجر ششی سنہا نے سنیتا آہوجا کی اس بات کی تردید کی اور کہا کہ گووندا کی دوسری شادی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
گووندا نے ایک ویڈیو پیغام میں سنیتا سے بھی کہا تھا کہ وہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جن سے ان کی ساکھ، کیریئر اور مقام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کیلئے حکومت کا عدالت عالیہ کو خط
اب جب کہ سنیتا آہوجا کی طلاق کی درخواست واپس ہو چکی ہے تو اچانک گووندا کو خیال آیا کہ میڈیا تو ان کی طلاق کی افواہیں پھیلا رہا ہے۔ اور وہ سو کروڑ روپے کے ہرجانے کے دعوے کی تلوار لے کر میڈیا میں پھیلی افواہوں کو تہس نہس کرنے کیلئے نکل پڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: حنا جاوید قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آ گئی