سیلاب آنے پراقوام متحدہ سے مدد مانگتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے، خواجہ آصف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(روزینہ علی)قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیلابی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سیلاب آنے پراقوام متحدہ سے مدد مانگتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے، یہ ہمارے اعمال ہیں،یہ مین میڈ ڈیزاسٹر ہے، خیبرپختونخوا میں بھی تمام دریاؤں کی حدود میں انسانوں نے مداخلت کی ہوئی تھی،ہم نے آبی گزرگاہوں پر ہوٹل مکان بنائے ہیں،دریا کے راستہ پر قبضہ کر لیا ہے، یہ خود احتسابی کا وقت ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےخواجہ آصف نے کہ پچھلے سیلاب سے اب تک کون سی انکروچمنٹ ہٹائی ہیں؟،سیلاب سے نقصانات کی بڑی وجہ تجاوزات ہیں،آبی گزرگاہوں کے راستوں میں تعمیرات سے زیادہ نقصان ہوا،سیالکوٹ میں بارش کےباعث اربن فلڈنگ ہوئی،دریاؤں کے راستوں پر قبضے کرلیے گئے،دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا دی گئیں،آبی گزرگاہوں پرگھر اور ہوٹل بنائے گئے،نئے ڈیم بنانے میں 10 سے 15 سال لگ جائیں گے،لوگوں نے نالوں کی زمین پرگھر بنا رکھے ہیں،سیالکوٹ میں دریا کےراستے میں آبادیاں ہیں،سیلاب کی جو صورتحال ہے یہ قومی ایشو ہے اس پر سیاست نہ کریں ، ہم عالمی برداری ، اقوام متحدہ سے مدد مانگتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے ، دس دس فٹ گہرائی تک لوگوں نے پلاٹ بنا کر بیچ دیئے وہ زمین کسی نالے ،دریا کی ہے، زیڈ کے بی نے ہمارا سارا شہر تباہ کر دیا ہے،ان کا پردہ پانی کی وجہ سے فاش ہوا ہے،ساری سڑکیں بیٹھ گئی ہیں،بہت امیر لوگ ہیں، وہ کس طرح اپر ہاؤس میں پہنچے ہوئے ہیں،علی محمد خان ٹھیک کر رہے بڑے ڈیمز ڈکٹیٹرز کے زمانے میں بنے،اگر فوجی حکمرانوں نے دو ڈیم بنا دیئے،جن ڈیموں کی بات کر رہے ہیں ان کے بنتے بنتے کیا حال ہو جائے گا،سینکڑوں درجنوں چھوٹے ڈیم بنائیں،ہمیں اپنے رویئے بدلنے کی ضرورت ہے،نیشنل ایشوز پر اختلاف نہیں ہونے چاہئیں،اگر کسی نہر، ڈیم کی بات ہوتی ہے تو سڑکیں بند نہ کریں،ہمارے بے شمار اختلافات ہیں لیکن اس کی نوعیت سیاسی ہے،آبی گزرگاہ میں تعمیرات کی وجہ سے پانی پیچھے کی طرف آیا ہے، چھوٹے ڈیم بنائیں جو جلدی بن جائیں،سینکڑوں کے حساب سے ڈیم بنائیں، پانی فورا اپنا راستہ بدل لیتا ہے، کتنے بند باندھیں گے؟بلدیاتی ادارے بے دست و پا ہیں،ہم بلدیاتی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے ٹول سمجھتے ہیں،ہمارے ملک میں بلدیاتی انتخابات کے قانون کا بھی کسی کو نہیں پتہ ہوتا،زیڈ کے بی کی ایک اور بھی واردات تھی، مجھے بھی آفر ہوئی تھی،یہ لوگ خریدتے ہیں، ہماری بولی لگاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی کے ڈوبنے کا خطرہ بڑھ گیا، آئندہ 72 گھنٹے نہایت مشکل ترین ،جمنا ندی بپھر رہی