آؤجاپان چلیں (تیسری قسط )
حافظ شہباز علی hafee23@gmail.com
Stay tuned with 24 News HD Android App
ٹوکیو کے نواب ریسٹورنٹ میں دیسی کھانوں کا مینیو دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی خاص طور پر دنیا کے جدید ترین شہر میں لسی کے مختلف فلیوراور ان میں مینگو لسی دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی بہر حال ہم نے مٹن نہاری اور مٹن ہانڈی کا آرڈر کیا۔کھانا آرڈر کرنے کے بعد کافی دیر تک تو میں یہ سوچتا رہا کہ پتا نہیں کھانے کا ذائقہ کیسا ہوگا بہر کیف یوسف مغل نے باتوں باتوں میں مجھے بتایا کہ کھانا انتہائی لذیذ ہوتا ہے جب کھانا ہمارے ٹیبل پر آیا تو کھانا دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ نہاری اور مٹن ہانڈی کی لذت بالکل لاہور کے کسی بھی بڑے ریسٹورنٹ کے کھانوں جیسی تھی ۔ بھوک کی وجہ سے کھانا مزید لذیذ لگا اور ہم نے خوب سیر ہوکر کھانا کھایا ۔کھانے کے بعد ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے آنے والی پاکستانی فیملیز کے ساتھ بھی گپ شپ رہی ۔
نواب ریسٹورنٹ میں کھانے کے بعد ہوسف مغل کے ہمراہ ٹوکیو شہر کی سیرکی ۔اور پھر دوبارہ ٹوکیو کے نیشنل اسٹیڈیم پہنچے اور یہاں جاری ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کے مقابلے دیکھے۔جب ہم پاکستان کے اتھلیٹکس ہیرو اولمپکس گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی ٹریننگ کور کرنے کے لیے پہنچے تو ارشد ندیم کی ٹریننگ مکمل ہوچکی تھی جیولن تھرو مقابلوں کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں دو دن رہتے تھے اور اس روز سلمان اقبال بٹ نے ارشد ندیم کو ویٹ ٹریننگ کروائی۔ اس روز شام کے اوقات میں ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں چار سو میٹر ہرڈلز ،لانگ جمپ، پول والٹ ،110 میٹر ہرڈلز کے مقابلے کور کیے جبکہ صبح کے وقت 100 میٹر ہرڈلز,میراتھن ،ہیمر تھرو، پول والٹ مین اور ویمن کوالیفکیشن راؤنڈز ہوئے ۔یہ پہلا موقع تھا کہ میں بطور صحافی اتنے بڑا ایونٹ کور کررہا تھا تاہم دنیا کے ٹاپ اتھلیٹس کی فٹنس اور ان کی پرفارمنس اور پھر اپنے ٹارگٹ کے حصول کے لیے ان کی تگ و دو اور حکمت عملی دیکھنے کا موقع ملا ۔یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کوچنگ ایک مکمل سائنس ہے اتھلیٹس کے لیے ایونٹ سے پہلے کی ڈائٹ بالکل مختلف ایونٹ کے بعد ان کی ڈائٹ اور کول ڈاؤن کا عمل بالکل الگ ہے۔اگر ہم یورپین اورافرہقن اتھلیٹس کی فٹنس کو اپنے ٹاپ پر ہے۔
ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں تے تیسرے روز زیادہ تر کوالفکیشن راؤنڈز تھے اور ان میں کوئی بڑا اپ سیٹ دیکھنے میں نہیں آیا ۔

ٹوکیو سے دوبارہ ایباراکی جوسو کی طرف رخ کیا تو رستے میں رات کے اوقات میں ٹوکیو کی رونقیں دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں بتاتے چلیں کہ ٹوکیو کا موسم بالکل لاہور جیسا ہی تھا۔ یوسف مغل کے ہمراہ ایباراکی جوسو کی جانب رخت سفر باندھا تو رستے میں ڈزنی لینڈ دیکھنے کا موقع ملا تاہم وقت کی کمی کے باعث ہم ڈزنی لینڈ کے اندر تو نہ گیے مگر ڈزنی لینڈ کے اردگرد کے ماحول سے یہاں کی خوبصورتی کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا یہ بالکل ایک مختلف دنیا تھی ۔ اب ہم ٹوکیو کے مختلف اور خوبصورت مقامات کو دیکھتے ہوئے ایباراکی جوسو کی جانب رواں دواں تھے ۔ ہم تقریب سوا دوگھنٹے کی مسافت کے بعد اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب کی رہائش گاہ پر پہنچ چکے تھے۔ جب ہم گھر پہنچے تو گھر میں کا بہترین کھانا ہمارا منتظر تھا۔ میں نے اشفاق الرحمن ہاشمی بھائی سے دریافت کیا کہ کھانا کون بناتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ کھانا ان کے بیٹے عبد الرحمن ،اسد الرحمن اور اشعر اشفاق مل کر بناتے ہیں اس روز مٹن قورمہ کے ساتھ چاول تھے اور کھانے کا لطف دوبالا ہوگیا ۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جاپان میں مقیم پاکستانی شہری عابد ڈار صاحب سے رابطہ ہوا عابد ڈار صاحب اصل میں ہمارے ہر دل عزیز دوست ڈاکٹر اسد عباس شاہ صاحب کے انتہائی قریبی دوست ہیں اور پاکستان سے بے پناہ محبت کرنے والے شخص ہیں ان سے فون پر خاصی گفتگو ہوئی اور عابدڈار صاحب نے اگلے روز رات کے کھانے کی دعوت بھی دے ڈالی۔
جاری ہے۔۔۔۔