وزیراعظم نے عوام کومزید پریشان کردیا۔۔۔24نیوز کے پروگرام ڈی این اے میں ماہرین کی رائے

Oct 01, 2021 | 00:43:AM
ڈی این اے
کیپشن: پروگرام ڈی این اے

(24 نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے ٹرانسمیشن لائن کی افتتاحی تقریب کے دوران مہنگائی کے ستائے عوام کو حوصلہ دینے کی بجائے مزید پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔  وزیر اعظم نے کہا کہ معیشت بہتر ہوگی تو قرض اترے گا اس کے بعد مہنگائی میں کمی کی توقع کی جا سکتی ہے عوام کو مہنگائی کے اذیت ناک مراحل برداشت کرنا ہوں گے۔

 24 نیوز کے پروگرام ڈی این اے میں سلیم بخاری افتخار احمد  پی جے میر اور جاوید اقبال نے ملک میں مہنگائی کی ناقابل برداشت صورت حال اور اس کے تدارک میں شدید ناکامی پر  وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا .

سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ موجودہ  حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی نوے دن میں اقتصادی انقلاب لانے کی باتیں کیں جس کے باعث عوام کی توقعات بڑھ گئیں اب عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں کوئی حکومتی نمائندہ بتا دے کہ کم از کم تنخواہ میں ایک عام آدمی کے گھرانے کا بجٹ کیسے بن سکتا ہے حکومت نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرنے کے لئے عوام پر یوٹیلٹی بلز اور پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کیا اور ایسے ٹیکس لگائے جنہوں نے عوام کی سانسیں بند کر دی ہیں پی جے میر نے کہا کہ دنیا میں پہلی مرتبہ ہے کہ تیل 80 ڈالر پر جس تیزی سے گیا اس سے پہلے نہیں گیا تھا ہم اپنی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں.جس پر افتخار احمد نے کہا کہ تو کیا ان کے گلے میں ہاتھ ڈالیں جاوید اقبال نے کہا کہ شوکت ترین کون سے سیاسی عمل کے ذریعے سینیٹر بن رہے ہیں یہ حقیقت ہے کہ ڈائریکٹ فارن انوسٹمنٹ کہیں سے نہیں آ رہی ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گا آپ کا امپورٹ بل بھی تقریباً 80 بلین کے لگ بھگ ہے جب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اتنا زیادہ ہو گا تو ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان کسی سے تھمنے والا نہیں ہے .

پی جے میر نے کہا پاکستان میں سب نیب سے ڈرتے ہیں اتھارٹی نہیں ہے پرائس کنٹرول کے لئے لوکل ایڈمنسٹریشن فعال نہیں ہے بیورو کریسی خوف کے باعث کام ہی نہیں کر رہی پروگرام میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے اختلافات پر بھی بحث کی گئی  افتخار احمد نے کہامریم نواز کا بیانیہ غلط نہیں ہے لیکن جب کہا جاتا ہے کہ  پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں جاؤ تو انہیں اعتراض ہوتا ہے سلیم بخاری نے کہا نواز شریف تو اب مفاہمت کی بات کر رہے ہیں لیکن ان کی بیٹی جس طرح ذو معنی باتیں کر رہی ہے اس سے پارٹی کو پہلے بھی نقصان ہوا تھا دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ اسٹبلشمنٹ کے خلاف پوزیشن لے لیں اور پھر توقع کریں کہ آپ کو حکومت بھی کرنے دی جائے ، افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اختلافات صرف مسلم لیگ ن میں نہیں ہیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پرویز خٹک گروپ سامنے آ گیا ، جہانگیر ترین گروپ پہلے موجود ہے جب کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان کو چوہدری نثار علی خان کی پارٹی میں شمولیت پر شدید اعتراضات ہیں تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ اپنی حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم عوام کا سامنا کیسے کریں انہوں نے کہا کہ منظور وسان کی پیش گوئی سچ ثابت ہو سکتی ہے کہ آئندہ برس الیکشن ہو سکتے ہیں.

جاوید اقبال نے کہا کہ مریم نواز شریف نے سب پر واضح کر دیا ہے کہ صرف نواز شریف کا بیانیہ چلے گا اور کسی کے بیانئے کی کوئی اہمیت نہیں ہے  ڈی این اے میں کراچی میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی غور کیا گیا تجزیہ کاروں کی مشترکہ رائے تھی کہ کراچی کے مسائل صرف سندھ حکومت کے بس کی بات نہیں وفاقی حکومت کو بھی کراچی کے گھمبیر مسائل کے حل کے لئے موثر کردار ادا کرنا ہو گا  پی جے میر نے کہا کراچی سطح سمندر سے نیچے ہے  کراچی بہت سنجیدہ معاملہ ہے کراچی ڈوب سکتا ہے ، ڈرینیج  ادھر نہیں ہے ، سٹرکیں ادھر نہیں ہیں ، سیوریج کا نظام ادھر نہیں ہے افتخار احمد نے کہا کہ کراچی ہے  کئے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا کوئی بااختیار ڈھانچہ ہونا چاہیے  ۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر تعلیم کا آج تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان