’’نورِ سحر‘‘ میں ’’ اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا‘‘کے موضوع پرعلمی و روحانی نشست
جس کے سینے میں علم کی روشنی ہو، وہ ہر نشیب کو فراز بنا دیتا ہے،جسٹس (ر) نذیر احمد غازی اوردیگر کی گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)24نیوزکے پروگرام’’نورِ سحر‘‘ میں ’’ اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا‘‘کے موضوع پرعلمی اور روحانی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین نے اس موضوع پرپرمغز گفتگوکی۔
پروگرام’’نورسحر‘‘کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ دینِ اسلام نے تعلیم پر غیر معمولی زور دیا ہے کیونکہ تعلیم ہی انسان کو شعورِ ذات عطا کرتی ہے اور اسے مقصدِ حیات سے روشناس کرتی ہے، جس کے سینے میں علم کی روشنی ہو، وہ ہر نشیب کو فراز بنا دیتا ہے،خودی کا سفر تعلیم، تربیت اور کردار سازی سے مکمل ہوتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری نے کہا کہ ہماری ایک عظیم اسلامی علمی و تحقیقی وراثت موجود ہے جسے نئی نسل تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے۔اگر نوجوان اپنی تاریخ اور ہیروز سے واقف ہوں تو ان میں اعتماد اور امید دونوں بحال ہو سکتے ہیں۔پاکستان کی ترقی کا راستہ علم پر مبنی معیشت سے گزرتا ہے، اگر ہم ایک نالج نیشن بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا نصاب اور تدریسی نظام اسی وژن کے مطابق استوار کرنا ہوگا۔
پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری نے مزیدکہا کہ جدید دور میں استاد کا کردار صرف معلومات دینے تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ رہنما، موٹیویٹر اور کردار ساز بھی ہے، آج تعلیم صرف ڈگری نہیں بلکہ تحقیق، رواداری اور اخلاق کا امتزاج ہے۔
اعجاز احمد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علمُ الاسماء عطا فرمایا، اور یہی علم انسان کی اصل شناخت ہے۔ تعلیم کا پہلا مقصد انسان کو انسان بنانا ہے۔
انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج تعلیم کو صرف روزگار سے جوڑ دیا گیا ہے جبکہ کردار سازی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے،جب تک ہم دین کو علم اور ترقی کے ساتھ نہیں جوڑیں گے، ہم پیچھے ہی رہیں گے۔
ڈاکٹر عفاف منظور نے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد شعور اور کردار کی تربیت ہے،بچے کی ابتدائی تعلیم اس کی فکری سمت اور کردار سازی کی بنیاد رکھتی ہے، اسی لیے پرائمری تعلیم پر خصوصی توجہ ضروری ہےاور اگر بچپن میں ہم اپنے بچوں کو اپنی علمی و تہذیبی میراث سے روشناس کرائیں گے تو وہی آگے چل کر معاشرے کو سنواریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے مدینہ میں سب سے پہلے تعلیم کی بنیاد رکھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ علم جہاں سے بھی ملے، حاصل کرنا چاہیے، تعلیم کا پہلا درجہ علم ہے، مگر اس سے اعلیٰ درجہ ادب ہے۔